فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

تاثیر صحبت

از فقیر طفیل احمد طاہری بخشی

ہیڈ کلرک ریجنل ڈائریکٹریٹ آف اپرینٹس شپ ٹریننگ (R.D.A.T) ایس ٹی ۱۹، گلشن اقبال، کراچی

نگاہ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

یہ عاجز سگریٹ پینے کا بڑا شوقین تھا۔ جب پہلی بار محترم خلیفہ حضرت مولانا مقصود الٰہی صاحب کے ساتھ طاہر آباد شریف میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں حاضر ہوا، تو بھی چھپ کر سگریٹ پیتا رہا، مگر جب حضور کے چہرہ انور پر نظر پڑی تو ان کی توجہ باطنی اور معرفت حقیقی کی بوند کی تاثیر سے بے قابو ہوگیا، جذبہ سے افاقہ ہونے پر دوستوں نے بتایا کہ آپ آدھ گھنٹہ تک مچھلی کی طرح تڑپتے رہے۔ دوسرے دن جب کراچی پہنچا تو بھی دل سے اللہ اللہ کی صدائیں بلند ہوتی رہیں، جب دفتر گیا تو معمول کی گپ شپ، اخبار بینی اور لوگوں کو تنگ کرنے کی بجائے دفتر کی چھت پر جاکر کافی دیر تک مراقبہ کرتا رہا۔ دو دن بعد شیطان نے سگریٹ پینے کے لئے آمادہ کر ہی لیا اور دو سگریٹ خرید لیے، مگر آج اندرونی ایک آواز مجھے شرما رہی تھی کہ اللہ والے کے ہاتھ میں ہاتھ دیکر پھر بھی سگریٹ پیتا ہے۔ بہرحال ایک دو کش ہی لئے تھے کہ ایک سائیکل سوار میرے سامنے آکر رکا اور کہا کیا تجھے پیر و مرشد نے ذکر نہیں سکھایا، تو اب بھی سگریٹ پی رہا ہے۔ میرے پوچھنے پر اپنا نام ”اللہ بخش“ بتاکر چل دیئے۔ ان کے ناصحانہ انداز سے اپنی غلطی کا احساس بھی ہوا اور حضور سے عقیدت میں اضافہ بھی کہ کس طرح میرے پیر بھائی محترم حاجی اللہ بخش میمن صاحب برمحل میری اصلاح کے لئے سامنے آگئے۔ الحمدللہ اس کے بعد پھر کبھی سگریٹ نہیں پی۔ تبلیغی محنت سے نہ صرف اس عاجز کے اندرونی حالات میں زمین و آسمان کا فرق پیدا ہوگیا ہے، بلکہ علاقہ بھر کے کئی سگریٹ نوش، ہیروئن کے عادی شراب اور زناکاریوں میں مبتلا افراد بھی تہہ دل سے تائب ہوگئے۔
یہی نہیں بلکہ کئی آدمیوں نے ازخود اس خواہش کا اظہار کیا کہ فیض کی جو بارانی ہمارے اوپر ہوئی ہے، اگر ہماری خواتین پر بھی ہو تو اصلاحی نقطہ نظر سے ہمارے گھروں کے حالات میں بھی بہتری آسکتی ہے۔ چنانچہ حضور کے خلیفہ محترم مولانا مقصود الٰہی صاحب سے عرض کی گئی، انہوں نے فرمایا پہلے کسی گھر میں پردہ کراؤ، خواتین پردہ میں بیٹھیں، تم میرے ساتھ رہو، کیونکہ پردہ ازروئے شریعت مطہرہ ضروری ہے اور اللہ کی اس پر لعنت جو پردہ چاک کرتا ہے۔ بہرحال پردہ کرایا گیا، انہوں نے طریقہ عالیہ کے مطابق ذکراللہ کی تلقین کی، وعظ و نصیحت کی، یقین مانیں جن خواتین نے ان کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ذکر کیا، نیکی اور تقویٰ میں مردوں کو بھی پیچھے چھوڑ گئیں۔

کرامت

اللہ والی مسجد اورنگی ٹاؤن میں ایک صاحب کی فرمائش پر جب ان کی والدہ صاحبہ کو خلیفہ صاحب نے طریقہ عالیہ کے مطابق ذکر کا وظیفہ سمجھایا اور مراقبہ کی تلقین کی، تو وہ فرماتی ہیں کہ جب میں ذکر کا مراقبہ کرتی ہوں تو اپنے دل پر تشہیری الفاظ میں لفظ ”اللہ“ لکھا ہوا دیکھتی ہوں۔ چونکہ ان کے لئے ان انوکھی بات تھی، خلیفہ صاحب کو پیام بھیجا کہ یہ خطرہ کی بات تو نہیں، جوابًا خلیفہ صاحب نے کہلا بھیجا کہ یہ کسی قسم کے خطرہ کی بات نہیں، تم کو مبارک ہو کہ دل میں اللہ تعالیٰ کا نام مبارک جاگزین ہوا ہے۔

خوش نصیب خاتون

حضور کے پیارے خلیفہ سے ذکر سیکھنے کے بعد جب محترم نور الاسلام کی والدہ صاحبہ فوت ہوگئیں تو ان کا دل ذکر کررہا تھا ”اللہ، اللہ، اللہ“۔ یہ آواز سن کر تعزیت میں آئی ہوئی دوسری عورتیں حیران ہوگئیں، آخر ڈاکٹر صاحب سے معلوم کیا گیا تو بتایا کہ یہ مرچکی ہیں، لیکن خدا کی یاد سے دل زندہ و جاری ہے۔