فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

بیعت ہونے سے پہلے اور بعد میں

محترم مولانا بخش علی

خطیب و امام میمن مسجد میمن محلہ مارکیٹ حیدرآباد

حضرت قبلہ سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ سے متعلق بہت سے واقعات و حالات روز روشن کی طرح قلب و نظر میں محفوظ ہیں، مگر یہاں چند ایک واقعات و کرامات پر ہی اکتفا کرتا ہوں۔

خواب میں زیارت

جس زمانہ میں انگریز حکومت نے روہڑی کینال کھدوایا تھا میں صغیر تھا اور مال مویشی چارا کرتا تھا۔ ایک رات خواب میں دیکھا کہ میں اور دوسرے رشتہ دار لڑکے غازی اور محمد حسن ساتھ کھڑے ہیں، اور نہر کھودنے والی بہت بڑی مشین کے اوپر ایک بزرگ تشریف فرما ہیں اور انہوں نے ایک ایسا بلب جلایا ہے کہ اس سے پورا عالم منور ہوگیا ہے، روشنی بھی عجیب سی سرخی مائل معلوم ہوتی ہے، اتنے میں تین بزرگ ہمارے قریب آگئے، درمیان میں جو بزرگ کھڑے تھے میری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے زبان درافشاں سے فرمایا ”رات دی نماز پڑھدا کر“۔ میں نے عرض کی ”حضور رات دی نماز پڑھدا ہاں۔“ پھر فرمایا ”رات دی نماز پڑھدا کر“ میں نے کہا ”مغرب دی نماز بھی پڑھدا ہاں“، پھر تیسری بار بھی وہی الفاظ ارشاد فرمائے اور میں نے کہا حضور میں پانچوں وقت دی نماز پڑھدا ہاں۔ اس کے بعد اپنے داہنے طرف کھڑے بزرگ کی طرف متوجہ ہوئے اور مختلف اطراف کی طرف اشارہ کرکے فرماتے رہے یہ ہم نے آپ کو دے دیا۔ اسی طرح دکھاتے اور سمجھاتے رہے۔ یہاں تک کہ ہماری آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ اس کے کئی سال بعد اللہ تعالیٰ نے حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کی غلامی عطا فرمائی تو درمیان میں کھڑے بزرگ پیر مٹھا قدس سرہ اور ان کے داہنے جانب کھڑے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اور بائیں جانب کھڑے سید عبداللہ شاہ صاحب معلوم ہوئے۔ واقعی حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی تشریف آوری سے سندھ بھر میں دینی روشنی پھیلی اور آپ نے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کو تبلیغ کے لئے کئی علاقے سپرد فرمائے۔

خاص کر کنڈیارو (جہاں میں نے خواب دیکھا) تو آپ کے فیوض و برکات کا عظیم مرکز ثابت ہوا اور رات کی نماز تہجد کی نماز ثابت ہوئی۔ حضرت پیر مٹھا قدس سرہ کے زمانہ ہی سے میری حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ سے بے حد محبت و نسبت تھی اور وہ محض آپ کی للٰہیت اور آپ سے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی کمال درجہ محبت کی وجہ سے۔ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی آپ سے اس قدر محبت تھی کہ ایک مرتبہ عام جماعت میں آپ کی محبت اور لنگر کی بے لوث خدمات کا بیان کرتے ہوئے آپ کے متعلق حضرت امیر خسرو علیہ الرحمہ کے یہ اشعار ارشاد فرمائے۔

من تو شدم تو من شدی، من تن شدی تو جاں شدی
تاکس نہ گوید بعد ازیں، من دیگرم تو دیگری

(میں تو ہوگیا اور تو میں ہوگیا، میں جسم ہوگیا اور تو میری جان ہوگیا، یہاں تک (ایک ہوگئے کہ) اس کے بعد کوئی یہ نہ کہے کہ میں اور ہوں تو اور ہے)

دین پور شریف میں لنگر کی خدمت

حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ترغیب پر دین پور کے فقراء لنگر کے لئے گندم، گنا اور کپاس وغیرہ بوتے تھے، اور اس کام کے لئے حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ اس عاجز کو بھی یاد فرماتے تھے۔ کئی کئی دن تک ہم دین پور شریف جاکر لنگر کا کام کرتے تھے، جبکہ حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ بذات خود کام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جیسے ہی آپ نے کچھ کپاس جمع کرلئے تو میں نے وہ آپ سے لے لئے اور اپنے جمع کئے ہوئے کپاس سے محض اس لئے ملالئے تاکہ میرا ریاکارانہ تھوڑا بہت عمل آپ کے مخلصانہ عمل میں شامل ہوکر بارگاہ الٰہی میں مقبول و منظور ہوجائے۔ اوائل میں میں تبلیغی سفر میں عمومًا آپ کے ساتھ رہتا تھا اور حسب توفیق تھوڑی بہت آپ کی خدمت بھی کرتا تھا، مگر آپ کا سلوک مخدومانہ نہیں برادرانہ ہوتا تھا۔ میں ادب کی وجہ سے عمومًا علیحدہ کھانا کھاتا تھا، مگر کبھی حضور ساتھ بیٹھ کر کھانے کا حکم فرماتے تھے اور مجھے تعمیل کرنا پڑتی تھی۔ میں نے کئی بار مختلف شکل و صورت میں شیطان کو بھی دیکھا اور حضور کے صدقے ہر بار اسے پہچان لیا۔ چنانچہ ایک مرتبہ اسلام پور نامی بستی میں حضور تشریف لائے، بحالت مراقبہ میں نے شیطان کو بندر کی شکل میں دیکھ کر اللہ تعالیٰ کے ذکر کی ضربوں سے اسے بھگایا تاکہ کسی فقیر کو ذکر سے غافل پاکر وساوس میں مبتلا نہ کردے، جب میں نے اپنے مذکورہ حال کا واقعہ آپ سے بیان کیا تو فرمایا جی ہاں یہ شیطان ہی ہے جو فقراء کو بہکانے کے لئے مختلف حیلے بہانے استعمال کرتا ہے۔ چنانچہ تین دن متواتر سورج غروب ہوتے ہی گھنے جنگل سے چھوٹے بچے کے رونے کی سی آواز سنائی دیتی تھی، فقراء یہ سمجھ کر کہ شاید کسی کا بچہ ادھر چلا گیا اور رورہا ہے، بھاگتے گئے، جب اس جگہ پہنچے رونے کی آواز دوسری جانب سے سنائی دی، وہاں پہنچے پھر تیسری طرف سے آواز آئی۔ اسی طرح تین دن فقراء کو پریشان کرتا رہا، اس کے بعد فقراء نے کوئی توجہ نہ دی۔

کرامت

حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے وصال کے بعد جب میں حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی خدمت میں دین پور شریف گیا اور وہاں سے ہوکر گھر پہنچا سردیوں کا موسم تھا، کمرہ میں آگ جلائی گئی، اوپر مٹی کے تیل سے بھرا ہوا لالٹین پڑا تھا۔ جیسے ہی فقیر محمد یوسف کی بیوی جو کہ نہایت پارسا خاتون ہے کمرہ میں داخل ہوئیں تو اس کا سر لالٹین سے ٹکرا گیا اور مٹی کا تیل اس کے کپڑوں پر پھیل گیا، آنًا فانًا آگ لگ گئی، بجھانے کی کوشش کی گئی مگر آگ تمام کپڑوں کو لگ چکی تھی، مائی صاحبہ کے ہاتھ میں بچی بھی تھی جو میری بیوی کو دینا چاہی مگر وہ ڈر کے مارے اسے لئے بغیر بھاگ کھڑی ہوئی، بالآخر وہ بیچاری اللہ اللہ کہتے ہوئے وہاں موجود رضائی پر گری، مگر جب تیل جل کر ختم ہوا تو خود میں نے دیکھا کہ نہ تو مائی صاحبہ کے جسم پر کوئی داغ تھا نہ کپڑوں پر جلنے کے آثار، اسی طرح بچی بھی پوری طرح سلامت تھی، جب کہ دوپٹہ جو مائی صاحبہ نہ پھینک دیا تھا جل کر خاکستر ہوا تھا اور رضائی کا بھی کافی حصہ جل کر راکھ ہوچکا تھا (اس اہم کرامت کے چشم دید گواہ ابھی تک موجود ہیں)۔ میں دوبارہ حضور کی خدمت میں پھر دین پور شریف حاضر ہوا، جب تفصیل سے مذکورہ کرامت عرض کی حضور بہت خوش ہوئے اور کئی بار عام جماعت میں مجھے مذکورہ کرامت سنانے کے لئے ارشاد فرمایا۔ سچ فرمایا حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی رحمۃ اللہ علیہ نے۔