فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

اللہ تعالیٰ کی مہربانی

از محترم شمس الدین میمن، سابق صدر تنظیم شیعہ کنڈیارو

میں صرف نام کا شیعہ ہی نہیں، شیعہ مذہب کا داعی و مبلغ، تحصیل کنڈیارو کی سطح پر اثناعشری تنظیم کا صدر تھا۔ سندھ کے مقتدر شیعہ رہنماؤں سے میرے گہرے تعلقات تھے۔ مجھے مشائخ اور علماء اہل السنۃ سے غیر معمولی بغض و نفرت تھی، مگر اپنے بزرگ صفت پڑوسی دوست محترم ڈاکٹر حاجی عبداللطیف رحمۃ اللہ علیہ کے اصرار کرنے پر رسمی طور پر ایک بار دربار عالیہ پر حاضر ہوا۔ ابھی حضور نماز کے لئے تشریف نہیں لائے تھے کہ ہم دربار عالیہ پر پہنچے۔ ایک فقیر نے آکر مجھے کہا وضو بنائیں نماز ہونے والی ہے، میں نے وضو بھی اپنے مسلک کے مطابق ہی کیا یعنی وضو کی ابتداء پیر دھونے سے کی۔ وضو بناکر میں بھی حضور کے دروازہ پر فقیروں کے ساتھ کھڑا ہوگیا۔ جیسے ہی حضور تشریف لائے میں نے آگے بڑھ کر مصافحہ کیا، آپ نے تھوڑی دیر کے لئے میرا ہاتھ تھام کر میری طرف دیکھا اور فرمایا ”خوش آھیو؟“ اس دن میں نے نماز بھی اپنے مذہب کے مطابق ہاتھ کھول کر پڑھی۔ مگر آپ کے چہرہ انور کی زیارت مصافحہ اور محبت بھرے خوش آمدید سے میں اس قدر متاثر ہوا کہ دوسرے دن ازخود حاضر ہوا۔ اسی طرح تیسرے دن بھی آیا مگر اہل السنۃ سے متنفر ہونے کی وجہ سے ذکر سیکھے بغیر چلا گیا۔ چوتھے دن حسب معمول بھنگ پی کر سوگیا، خواب میں آپ کی زیارت ہوئی، مجھے فرمایا میاں شمس الدین کیا بات ہے کہ آپ روزانہ آکر چلے جاتے ہیں؟ کیا کچھ پوچھنا چاہتے ہو؟ شام کو پھر حاضر ہوا۔ مولانا مشتاق احمد صاحب کو بتایا کہ آج آپ کے پیر صاحب سے کچھ پوچھنا ہے۔ انہوں نے میرے ملنے سے پہلے جاکر حضور کو بتایا، میرے ملنے پر آپ نے حال احوال دریافت فرماکر بڑے پیارے انداز سے پوچھا آپ اثناعشری کس کو کہتے ہیں۔ میں نے کہا جو ۱۲ اماموں کو برحق مانتے ہیں۔ فرمایا ان کو تو ہم بھی برحق مانتے ہیں، کوئی اہل السنہ میں سے ۱۲ اماموں کا مخالف نہیں۔ پھر فرمایا بھلا امام عالی مقام اور ان کے والد گرامی حضرت علی رضی اللہ عنہما کہاں کہاں شہید ہوئے؟ میں نے کہا بترتیب مقام کربلا اور کوفہ میں۔ اس پر فرمایا اس وقت آپ وہاں تھے؟ میں نے کہا جی نہیں، پھر فرمایا کیا آپ تبرا بھی کرتے ہیں، میں نے صاف کہہ دیا جی ہاں میں تبرا کرتا ہوں، فرمایا نعوذ باللہ من ذالک۔ جب آپ وہاں تھے بھی نہیں تو آپ کو کیا حق پہنچتا ہے کہ کسی کو برا بھلا کہتے پھریں؟ میں نے کہا اپنے علماء کرام سے ایسے سنا ہے۔ اس کے بعد مجھ سے کچھ پوچھے بغیر مسئلہ خلافت اور بنات الرسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اہل السنۃ والجماعۃ کا نظریہ مدلل و مفصل بیان فرمایا، جس سے میں بڑی حد تک متاثر ہوا کہ میں خود یہی سوالات کرنا چاہتا تھا۔

اس کے بعد چند نئے وارد ذکر سیکھنے کے لئے حضور کے قریب ہوگئے، مولوی مشتاق احمد صاحب نے مجھے آگے بڑھ کر ذکر سیکھنے کا کہا، مگر حضور نے دیکھ کر فرمایا میاں شمس الدین کو کیوں تنگ کرتے ہو، جب اس کا جی چاہے گا خود ذکر سیکھ لے گا۔ بہرحال جب آپ نے انگلی مبارک میرے قلب پر رکھ کر اللہ اللہ کرنے کی تلقین فرمائی تو اس قدر گریہ طاری ہوگیا کہ میں خود حیران تھا کہ آج مجھے کیا ہوگیا ہے کہ اتنا رو رہا ہوں۔

یاد رہے کہ اس وقت میری شکل و صورت بھی کچھ اور ہی تھی، ڈاڑھی مونڈھ، مونچھیں بہت بڑی، گردن میں کنٹھا جو عمومًا شیعہ ملنگ استعمال کرتے ہیں۔ بہرحال اس کے بعد آمدورفت کے ساتھ ساتھ نماز بھی شروع کی مگر برسوں پرانی نشے کی عادت برقرار رہی۔ دل سے نہ چاہنے کے باوجود عادت سے مجبور ہوکر آفیم اور بھنگ پیتا تھا۔ ایک دن مولانا مشتاق احمد صاحب سے صورتحال عرض کی، انہوں نے کہا خود آگے بڑھ کر حضور سے عرض کریں، جب حضور سے نشے کی عادت کی ذکر کیا تو فرمایا معلوم ہوتا ہے آپ ذکر نہیں کرتے۔ میں نے کہا حضور ذکر تو کرتا رہتا ہوں، فرمایا نہیں، اگر پابندی سے ذکر کرتے تو کوئی وجہ نہ تھی کہ نشے کی عادت ختم نہ ہوجاتی۔ اس کے بعد ذکر کی تاکید کی اور فقیروں کو فرمایا میاں شمس الدین کے لئے دعا مانگیں کہ اس بری عادت سے اس کی جان چھوٹ جائے۔ کوئی پانچ منٹ تک دعا فرماتے رہے، اس درمیان مجھے یوں محسوس ہورہا تھا کہ میرے جسم سے کوئی چیز خارج ہورہی ہے۔ دعا کے بعد فرمایا نشہ حرام ہے، کچھ مذہبی غیرت بھی ہونی چاہئے۔ بس حضور کی مستجاب دعا اور مختصر نصیحت میرے لئے تریاق عراق سے بڑھ کر ثابت ہوئے کہ اس کے بعد کبھی نشہ کے قریب تک نہ گیا۔ (الحمدللہ)

بہت بڑی کرامت

میرے بھانجے محترم حنیف احمد اور ڈاکٹر رفیق احمد صاحب کے والد محترم نور احمد میمن (سابق ڈپٹی ڈائریکٹر محکمہ تعلیم حیدرآباد) جب فوت ہوئے اس دن حنیف احمد دربار عالیہ اللہ آباد شریف میں تھا۔ اچانک مغرب کے بعد حضور نے حنیف احمد کو دروازہ پر تنہا بلاکر فرمایا آپ گھر چلے جائیں۔ عرض کی یا حضرت چند دن اور صحبت میں رہنے کا ارادہ ہے، اس پر فرمایا آج چلے جائیں بعد میں پھر آسکتے ہیں۔ خیر یہ اجازت لے کر باہر آئے، تھوڑی ہی دیر بعد حضرت قبلہ سجن سائیں مدظلہ باہر تشریف لائے اور اسے بلاکر حضور کی طرف سے کرایہ کے لئے ۱۵ روپے بھی دے دیئے۔ جب حنیف احمد میرے ساتھ میرے گھر جانے لگا، مجھے مذکورہ تفصیل بتاکر ۱۵ روپے دکھائے جن میں غیر معمولی مہک اور خوشبو تھی، ساتھ ساتھ یہ بھی بتایا کہ میرے پاس جانے کے لئے کرایہ بھی نہ تھا، حضور نے اپنے کشف سے معلوم کرکے ازخود کرایہ بھی عنایت فرمایا ہے۔ بہرحال جب حنیف احمد رخصت ہوکر گھر لطیف آباد حیدرآباد پہنچا تو اپنے گھر کے باہر لوگوں کا ہجوم دیکھ کر حیرانگی سے پوچھا کیا بات ہے؟ تو بتایا گیا آپ کے والد صاحب فوت ہوچکے ہیں۔

دوسری کرامت

جب مرحوم نور احمد صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا جنازہ لے کر قبرستان پہنچے اور میت قبر میں رکھی گئی، اچانک ایک سرخ ریش بزرگ سفید چادر اوڑھے ہوئے ظاہر ہوئے اور فرمایا اس کا چہرہ قبلہ رخ نہیں ہے، چہرہ قبلہ رخ کرو۔ جب قبر میں کھڑے آدمیوں نے دیکھا تو واقعی اس کا چہرہ صحیح طریقے سے قبلہ رخ نہیں تھا۔ جب اطمینان سے اس کا چہرہ قبلہ رخ کرکے فارغ ہوئے تو وہ بزرگ آنکھوں سے اوجھل ہوگئے۔ چونکہ قبر پر کھڑے بہت سے لوگوں نے بزرگ کو دیکھ لیا تھا، ایک دوسرے سے پوچھنے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے کہ وہ بزرگ کہاں ہیں۔ اس پر مرحوم کے لائق فرزند نے ان کو بتایا کہ یہ میرے پیر و مرشد حضرت سوہنا سائیں تھے جو رہنمائی کرنے تشریف لائے تھے۔