فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

نگاہ ولی

از مولانا مولوی غلام نبی طاہری، خطیب نورانی مسجد کراچی

۸ مارچ ۱۹۷۴ کا دن میرے لئے تاریخی اہمیت کا حامل انقلابی دن ہے۔ جس دن سے میرے دل کی دنیا بدل گئی، سیرت کے ساتھ صورت کی تبدیلی اس کے لئے واضح ثبوت ہے۔ ہوا یوں کہ مذکورہ تاریخ کو المرکز روحانی مہاجر کیمپ کراچی میں ایک عظیم الشان اسلامی اصلاحی جلسہ تھا، جس میں سندھ کے معروف و مشہور ولی کامل حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ بھی جلوہ افروز تھے۔ میرے دل میں بھی مذکورہ روحانی محفل میں شرکت کا شوق پیدا ہوا۔ اپنی بداعمالیوں اور سیاہ کاریوں کے باوصف غیر اسلامی شکل و صورت اپنائے ہوئے ڈاڑھی مونڈھے، شرٹ پینٹ پہنے ہوئے حاضر ہوا، اور آپ کی نورانی شخصیت اور پرتاثیر خطاب سے متاثر ہوکر دوسرے آدمیوں کے ساتھ میں نے بھی آپ سے ذکر کا وظیفہ سیکھا۔ فرصت ملنے پر دعا کروانے کے لئے آگے بڑھا۔ جب میں نے دعا کے لئے عرض کی تو فرمایا: فقیر آپ کا نام کیا ہے؟ میں نے عرض کی غلام نبی (واضح رہے کہ حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ شاذونادر ہی کسی نئے وارد سے نام پوچھتے تھے) یہ سن کر تین بار فرمایا: میاں غلامِ نبی بن جاؤ، غلامِ نبی بن جاؤ، غلامِ نبی بن جاؤ، دوسرے خیالات و فکرات کو چھوڑدو۔ بس آپ کا یہ فرمانا ہی تھا کہ میرے اوپر اس قدر گریہ طاری ہوگیا کہ ہچکیاں بندھ گئیں۔ کسی نے کیا ہی خوب فرمایا:

نگاہ ولی میں یہ تاثیر دیکھی
بدلتی ہزاروں کی تقدیر دیکھی

آپ کے ان پرکشش نورانی الفاظ میں کوئی ایسی برقی قوت کار فرما تھی کہ آپ کے تشریف لے جانے کے بعد کراچی میں آرام نہ آیا، چند ہی دن بعد دربار فقیرپور شریف میں حضور کے یہاں حاضر ہوا۔ جب مسلسل پندرہ بیس دن دربار شریف پر ٹھہرا تو ایک دن بلاکر فرمایا تقریر سناؤ۔ میں کراچی شہر کا ایک آوارہ گرد اور جاہل آدمی، جھجھک جھجھک کر عرض کی کہ حضور میں تو پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس پر فرمایا چلو اپنے پہلے کے حالات بیان کرو۔ جب میں نے اپنی سابقہ زندگی کے حالات کے ساتھ ساتھ حضور سے بیعت ہونے کے بعد کی اصلاح اور اخلاق و اعمال میں رونما ہونے والی غیر معمولی تبدیلی کا ذکر کیا تو فقراء حیرانگی کے عالم میں مجھے دیکھ رہے تھے۔ بہرحال اس کے بعد پھر ایک ماہ اور بھی خدمت میں رہا اور حضور کے فرمان سے قرآن مجید کا ترجمہ، فقہ کے مسائل اور ابتدائی طور پر فارسی اور عربی کی کتابیں بھی پڑھتا رہا، اس کے بعد کراچی آکر بھی فقراء سے رابطہ رکھا اور انفرادی طور پر حضور کا تعارف اور تبلیغ بھی کرتا رہا۔ تھوڑی بہت تعلیم بھی جاری رکھی۔ تقریبًا دو سال بعد دربار عالیہ اللہ آباد شریف پر ہونے والے تعلیمی دورے میں بھی حاضر ہوا۔ اس بار جب حضور نے مجھے تقریر کے لئے بلایا تو مولانا غلام نبی کے نام سے پکارا (تعلیمی دورے میں تقریر اور تبلیغ کا طریقہ کار سکھایا جاتا تھا اور اس میں شامل ہونے والے خواہ ان پڑھ ہوتے پھر بھی حضور ان کو اٹھ کر تقریر کا حکم فرماتے تھے)۔ حسب فرمان تھوڑی بہت تقریر کے بعد جب بیٹھ گیا تو آپ نے میرا تعارف کراتے ہوئے فرمایا یہ وہ شخص ہے جس کی شرارتوں کی وجہ سے رشتہ دار اور پڑوسی تنگ آچکے تھے اور آج لوگ اس کی تبلیغ و تقریر سے نیک و صالح بنتے جارہے ہیں، یہی نہیں بلکہ جنات بھی اس کی تقریر سننے کے لئے بیتاب رہتے ہیں۔ اپنی تمام تر کمزوریوں اور کوتاہیوں کے باوجود حضور کے ان دعائیہ ارشادات سے میری اس قدر ہمت افزائی ہوئی کہ واپسی پر میں بلا جھجھک تقریر کرنے لگا۔ حضور کی دعا کی بدولت لوگ بڑے شوق سے میرے جلسوں میں شریک ہونے لگے۔ دوران تقریر کئی لوگوں پر وجد اور جذبہ بھی طاری ہوا، اور کئی آدمیوں نے جناب کو بھی جلسوں میں تقریر سنتے دیکھا۔ اپنی اہلیت سے کئی گنا بڑھ کر مقبولیت دیکھ کر مجھے دینی مدرسہ میں داخل ہوکر پڑھنے کا شوق پیدا ہوا، جب حضور سے اجازت طلب کی تو فرمایا: میاں تو مولوی ہے، جب تونے فرضی ضروری علم حاصل کرلیا ہے تو اب مدرسہ میں مستقل بیٹھ کر پڑھنے سے بہتر یہ ہے کہ آپ تبلیغ کریں، تبلیغ اسلام سے بڑھ کر اور کوئی نیکی ہے ہی نہیں، انشاء اللہ ہر جگہ تم مولانا غلام نبی سمجھے اور پکارے جاؤ گے۔ بس اسی دن سے لوگ مجھے بڑا علامہ سمجھ کر بڑے بڑے جلسوں میں وعظ کے لئے بلاتے ہیں، کراچی کے علاوہ اندرون سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی مقامات پر مجھے تقریر کے لئے بلایا جاتا ہے۔ یہ سب حضور کی نظر کرم کی تاثیر ہے۔

ایک اور کرم نوازی

ایک بار میں تبلیغ میں تھا کہ خواب میں حضور پرنور صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی زیارت سے مشرف ہوا، اس کے بعد جلد ہی آپ نے اس ناکارہ کو خرقہ خلافت سے نواز کر ذکر کی اجازت فرمائی۔

کرامت

ایک شخص بنام عاشق علی (بکرا پڑی، کراچی) پر جنات کا اس قدر شدید غلبہ ہوچکا تھا کہ تقریبًا سات سال سے کھانے پینے، کپڑے پہننے کا ہوش نہ تھا، بس ایک پاگل سا بن کر رہ گیا تھا۔ گھر والوں نے نہ معلوم کتنے ڈاکٹروں سے علاج کرائے، کئی عاملوں کے پاس جاتے رہے مگر فائدہ کہیں سے نہ ہوا۔ چنانچہ ایک دن اس کا بھائی نصیب علی اسے میرے پاس لے آیا اور میں اسے دربار عالیہ اللہ آباد شریف لے گیا۔ حضور قبلہ عالم نور اللہ مرقدہ نے اسے دم کیا اور اپنے دست مبارک سے ایک تعویذ بھی عنایت فرمایا، مزید چند دعائیں مجھے سمجھائیں جو میں نے چند پلیٹوں پر لکھ کر ان کو دیدیں۔ بفضلہ تعالیٰ حضور کی دعا اور تعویذات کے بعد عاشق علی بالکل تندرست ہوگیا اور آج کل ایک بہت بڑا جنرل اسٹور چلا رہا ہے۔

کرامت

آدم کھنڈ ضلع لسبیلہ (بلوچستان) کے رئیس اللہ ڈنو کے لڑکے شیر محمد پر ایک شریر جن کا اثر ہوگیا، جب اس پر دورہ پڑتا تھا تو جو قریب آتا اسے مارتا اور گالیاں بکتا تھا، یہاں تک کہ چند عاملوں کی بھی اس نے خاصی پٹائی کردی۔ جب اس کے رشتہ دار اسے میرے پاس لے آئے اور میں نے اس پر دم کیا تو رونے اور چلانے لگا، آخر اس کو بھی دربار عالیہ پر حضور کی خدمت میں لے آیا اور آپ کی دعا سے بالکل تندرست ہوگیا۔