فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

باب ششم۔ مشاہدات و تاثرات

میرے سائیں سوہنا سائیں

از محترم خلیفہ مولانا حاجی محمد عبدالکریم صاحب، ساکن اُنڑ پور سندھ

(نوٹ: خلیفہ صاحب موصوف حضرت غوث بہاء الحق زکریا ملتانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کی اولاد میں سے ہیں اور کمال درجہ کے خائف خدا بزرگ صفت انسان ہیں، آپ کے آباؤاجداد پیری مریدی کیا کرتے تھے، لیکن حاجی صاحب موصوف کبھی بھی کسی مرید کے یہاں نہیں گئے تھے کہ حضرت قبلہ سیدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ نے آپ کو خلافت سے سرفراز فرماکر تبلیغ دین کا حکم فرمایا۔ حسب ارشاد اس وقت سے لیکر اب تک جبکہ ان کی عمر ۱۱۰ برس کو پہنچ چکی ہے تبلیغی جدوجہد میں مصروف ہیں، جدی پشتی مریدین (جن کی خاصی تعداد کراچی حیدرآباد وغیرہ میں ہے) کے علاوہ بھی ہزاروں افراد حاجی صاحب کی صحبت سے صالح و پرہیزگار بنے ہیں۔ مؤلف)

۱۹۵۴ء میں جب حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ اُنڑ پور تشریف فرما ہوئے میں آپ کے دست حق پرست پر بیعت ہوا تھا۔ آپ باعیال مختصر جماعت سمیت کچھ عرصہ اُنڑ پور میں قیام فرما رہے، پانچوں وقت نماز کی امامت حضرت سوہنا سائیں کرایا کرتے تھے۔ حضور کے قیام اور تبلیغی محنت سے اُنڑ پور، مانجھند، پیٹارو نیز گرد و نواح کی بہت سی بستیوں کے لوگ مستفیض ہوئے اور تاحال حضرت سجن سائیں مدظلہ کے وسیلہ سے دینی اصلاحی کاموں میں دن بدن اضافہ ہورہا ہے۔ الحمدللہ حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ سے میرا رابطہ عقیدت و محبت حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے زمانہ سے قائم تھا۔ حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ کے انتقال کے سانحہ پر میں بھی دیگر فقراء کی طرح پریشان رو رہا تھا کہ خواب میں آپ اور حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایک ساتھ نظر آئے اور آپ نے مجھے فرمایا تو فکر نہ کر بلکہ پوری طرح سے ان کی (حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ) طرف متوجہ ہوجا۔ اور میں نے ایسا ہی کیا۔ طریقہ عالیہ کے پانچ لطائف تک کی تعلیم مجھے حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ سے حاصل تھی، جبکہ حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ نے خلافت کی عنایت کے ساتھ ساتھ لطائف میں بھی اضافہ فرمایا۔

حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کے حکم کے مطابق تاحال یہ عاجز حسب مقدرت تبلیغ کا کام کرتا رہتا ہے اور آپ ہی کے طفیل لوگوں کو کافی فائدہ ہوتا ہے۔ چنانچہ محمد ایوب نامی ایک شخص داڑھی مونڈھ نشہ میں اس قدر مست رہتا تھا کہ لوگ اس کو ملنگ کے نام سے پکارتے تھے، جب سے وہ میرے ساتھ حضور سوہنا سائیں علیہ الرحمہ کے دربار پر حاضر ہوکر اور ذکر سیکھ کر آیا ہے، تائب ہوکر متبع شریعت و سنت بن گیا ہے، اس وقت وہ مسجد کا مؤذن و خادم ہے۔ حضور کو خلاف شرع تمام امور سے قلبی نفرت ہوا کرتی تھی، یہاں تک کہ میرے پڑوسی فقیر محمد سلیمان کو ایک مرتبہ خواب میں آپ کی زیارت نصیب ہوئی، دیکھا کہ حضور میرے گھر تشریف لائے اور چارپائی پر بیٹھے، دیگر فقراء گھر کے صحن میں کھڑے ہیں، آپ نے مجھ سے مخاطب ہوکر فرمایا: فقیر! چونکہ تیرے گھر میں ریڈیو بج رہا ہے اس لئے ہم جارہے ہیں۔ بیدار ہوکر جو دیکھا واقعی گھر میں ریڈیو بج رہا تھا۔

حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ صاحب کرامت بزرگ تھے۔ چنانچہ ہمارے اس علاقہ میں بھی بکثرت آپ کی کرامات کا ظہور ہوتا رہتا تھا، جن میں سے چند ایک پیش نظر ہیں۔

(۱) فقیر خدا بخش کا بھتیجا بنام علی محمد محمکہ جنگلات میں ملازم ہے۔ ایک مرتبہ رشوت کے مقدمہ میں پکڑا گیا۔ قانونی چارہ جوئی کے ساتھ ساتھ وہ ہر وقت حضرت صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی طرف متوجہ رہتا تھا۔ چنانچہ عین اس وقت جب کورٹ سے فیصلہ سننے کے لئے منتظر بیٹھا تھا کہ غلبہ حال کی کیفیت میں دیکھتا ہے کہ حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ تشریف فرما ہوئے اور مخاطب ہوکر فرمایا: فقیر! گناہ کے کام کرتے ہو اور پھر ہمیں ستاتے ہو؟ اتنے میں حضرت پیر مٹھا علیہ الرحمہ (جو کہ وصال پاچکے تھے) اندرون کورٹ سے ایک ڈائری لیکر آئے اور ایک ایک ورقہ کرکے کھولتے اور اس پر لکیر کھینچتے رہے اور یہ دیکھ کر علی محمد فقیر بڑی حد تک مطمئن ہوگیا کہ جج نے کل تک کے لئے فیصلہ ملتوی کردیا۔ دوسرے دن جوں ہی جج صاحب آئے سب سے پہلے اس کا مقدمہ نمٹایا اور علی محمد کی رہائی کا اعلان کردیا۔

(۲) فقیر ولی محمد جو کہ میرے ساتھ حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کے حضور بھی حاضر ہوتا تھا، مرض الموت کے وقت جامشورو ہسپتال میں زیر علاج تھا، بوقت وفات بلند آواز سے ذکر اللہ اللہ کرتے ہوئے روح روح آفرین کے سپرد کی۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ پڑوس کے ایک مخالف شخص نے مجھے بتایا (میں اس وقت طاہر آباد شریف میں تھا) کہ وفات کے بعد فقیر ولی محمد کا چہرہ چاند کی طرح چمکتا معلوم ہورہا تھا۔

(۳) ۱۹۷۳ء میں بہت بڑا سیلاب آیا، جامشورو سے لیکر مانجھند تک کی تمام بستیاں سیلاب کی لپیٹ میں آگئیں، اُنڑ پور کے اردگرد بھی میلوں تک پانی ہی پانی تھا، ہم بھی بستی کے گرد بند بنانے کی کوشش میں تھے کہ خواب میں حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ نظر آئے، آپ نے فرمایا چونکہ اس بستی میں ہمارے فقیر رہتے ہیں، یہ بستی سیلاب سے محفوظ رہے گی، فکر کرنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ الحمدللہ ایسا ہی ہوا کہ یہ بستی پوری طرح محفوظ رہی، جبکہ کچے کے علاوہ بہت سارے پکے کے علاقے بھی سیلاب کی لپیٹ میں آگئے تھے۔

(۴) اتباع شریعت کا حکم: فقیر محمد عیسیٰ کھوسو ساکن بڈھاپور نے بتایا کہ خواب میں حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ میرے گھر تشریف فرما نظر آئے، مجھ سے مخاطب ہوکر ارشاد فرمایا فقیر محمد عیسیٰ تو نماز پڑھتے وقت چادر کے دونوں کنارے آگے کی طرف کردیتا ہے (سدل کرتا) یہ درست نہیں۔ یہ فرماکر اپنی چادر مبارک اس طرح لپیٹ کر دکھائی کہ صرف ایک کنارہ آگے کی طرف لٹک رہا تھا، پھر فرمایا کہ آئندہ اس طریقہ پر چادر اوڑھا کرو۔

(۵) ۱۵ شعبان ۱۳۹۵ھ کو شب برأت کے فضائل، نوافل اور دعاؤں کے موضوع پر نصیحت کی، بعد از نماز عشاء فقراء نوافل میں مشغول ہوگئے، میں نے بھی نوافل ادا کئے، مختلف دعائیں مانگیں جن میں سے ایک یہ بھی تھی کہ میری عمر دراز ہو تاکہ نیکی کے کام زیادہ کرسکوں۔ ویسے یہ دعا بھی مانگا کرتا تھا کہ میری عمر بھی میرے پیر و مرشد کریم کو مل جائے۔ بہرحال اس رات خواب میں حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ زمین پر مجھے بستر پر لیٹے نظر آئے اور میں نے اپنے آپ کو حضور کی گود میں محسوس کیا، اس حال میں حضور نے مجھ سے فرمایا کہ حاجی صاحب تو نے درازی عمر کے لئے دعا مانگی تھی جو کہ اللہ تعالیٰ نے قبول کرلی ہے، دیکھو مغرب کی طرف کیا ہے؟ دیکھا تو ایک بڑا ستارہ چمکتے ہوئے نظر آیا۔ بلاشبہ میرے حضور شمس و قمر کی مانند ہیں اور آپ کے فیوضات سے دنیا فیضیاب ہورہی ہے اور آپ کے مخصوص فقراء ستاروں کی مانند ہیں کہ اپنے ہادی مرشد کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔ الحمدللہ میرا نام بھی ستاروں کی لسٹ میں موجود ہے، اس وقت میری عمر ایک سو سات برس ہے۔ (۱۹۸۸ء میں)

حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کو تبلیغ اسلام سے جس قدر محبت تھی کسی اور شے سے نہیں تھی۔ چنانچہ حضور کے وصال سے تین سال ایک ماہ چند دن قبل مؤرخہ ۱۹ محرم الحرام ۱۴۰۱ھ جمعہ کی رات میں نے خواب میں اپنے آپ کو نماز ظہر پڑھاکر فارغ محسوس کیا کہ یہ آواز سنائی دی کہ حضرت سوہنا سائیں علیہ الرحمہ تشریف فرما ہورہے ہیں۔ میں استقبال کے لئے مسجد سے باہر جانا ہی چاہتا تھا کہ آپ صحن مسجد میں پہنچ گئے، میں دوزانو آپ کے سامنے بیٹھ گیا اور اپنے دونوں ہاتھ حضور کے قدموں پر رکھ کر ہاتھ مبارک چومے کہ آپ نے بھی میرے ہاتھ پکڑ کر چوم لئے (یہ حضور کی ذرہ نوازی اور دادا جان حضرت غوث بہاء الحق ملتانی علیہ الرحمہ اور بزرگوں کا صدقہ ہے کہ حضور مجھ پر انتہائی شفیق تھے ورنہ میں ایک جاہل آدمی ہوں) اور صحت کا احوال دریافت فرمایا۔ میں نے اپنا ضعف احوال سناکر خدا تعالیٰ کا شکر کیا اور آپ نے میرے حق میں دعا کی۔ میں نے عرض کیا حضور آپ کا پروگرام تو کل آنے کا تھا؟ اس پر ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہمارا رزق اس طرح مقرر فرمایا ہے کہ جلدی جلدی سے بستیوں کا دورہ کرکے لوگوں کو ذکر کی تلقین کروں اور لوگوں کو نصیحت کروں اور ان کے حق میں دعا کروں۔

اس کے بعد میں نے آپ کے لئے پاکیزہ طعام اور پانی لانے کا ارادہ ہی کیا کہ مسجد کے صحن میں ایک ایسا نلکا (ہینڈ پمپ) نظر آیا جیسا میں نے حج کے موقعہ پر مدینہ طیبہ میں دیکھا تھا، اس پر میں سمجھا کہ اللہ تعالیٰ اپنے ولیوں کے تبلیغی دوروں میں پاک طعام اور پانی کا خود ہی انتظام کرتا ہے۔ اس خواب کے بعد مؤرخہ ۱۷ شوال ۱۴۰۴ھ کو حضور مرکز کاچھیلو رونق افروز ہوئے (جبکہ اس سے پہلے ۸ شوال ۱۴۰۰ھ کو بھی اسی جگہ تشریف لائے تھے) مردوں کے علاوہ پردہ میں خواتین کو بھی وعظ فرمایا اور ذکر کی تلقین کی۔ دوران نصیحت اس عاجز کے متعلق فرمایا کہ میں اپنی طرف سے آپ کو حاجی صاحب دے دیتا ہوں، ان سے دعا تعویذ وغیرہ لیتے رہیں۔ اسی دن سے کاچھیلہ بستی کے مرد خواہ خواتین کی مجھ سے زیادہ عقیدت و محبت ہے۔

اسی کاچھیلو مرکز پر مؤرخہ ۱۸۔۱۹ ربیع الاول ۱۴۰۷ھ کو حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ بمع خلفاء و فقراء تشریف فرما ہوئے اور مسجد میں عام وعظ کے علاوہ خصوصی طور پر خواتین کو باپردہ ذکر سمجھایا اور نصیحت فرمائی۔ الحمدللہ حضور سوہنا سائیں قدس سرہ کے فرزند ارجمند نے آپ کے تبلیغی مشن کو نہ صرف جاری رکھا بلکہ اس میں کافی اضافہ فرمایا۔

حضور نور اللہ مرقدہ کے وصال کا معلوم ہونے پر تیسرے دن ہم لوگ درگاہ شریف پر حاضر ہوئے، تجدید بیعت کی، مزار اقدس پر حاضر ہوئے جہاں گریہ طاری ہوگیا۔ بہرحال ختم شریف پڑھ کر واپس ہوئے۔ ابھی میں درمیان راہ ہی تھا کہ فقیر محمد حسین اپنے گھر ایک رات گزار کر میرے پاس پہنچا اور بتایا کہ رات مجھے حضور سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے خواب میں ارشاد فرمایا کہ حاجی صاحب کو جاکر کہو کہ زیادہ فکرمند نہ ہوں اور اپنے کام میں مصروف رہیں۔ یہ جمعہ ۱۰ ربیع الاول ۱۴۰۴ھ کی رات تھی۔ الحمدللہ باوجودیکہ میں مریض و معذور ہوں لیکن حضور کے ذمہ لگائے تبلیغی کام سے غافل نہیں ہوں۔

لاشئ فقیر محمد عبدالکریم ولد شاہ نواز غفاری بخشی طاہری، ساکن اُنڑپور ضلع کوٹری سندھ، جمعہ ۱۶ ذوالقعدہ ۱۴۰۸ھ