| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
باب ششم۔ مشاہدات و تاثراتسوہنے پیر دیاں سوہنیاں یاداںتحریر محترم مولوی عبدالسلام صاحبچک نمبر ۲۲، گ ب انبالوی، ضلع فیصل آبادیہ عاجز پہلے ایک اور نقشبندی بزرگ کا مرید تھا۔ تقریبًا بارہ سال تک ان کے بتائے ہوئے مختلف وظائف پڑھتا رہا، ان کے علاوہ بھی جو بزرگ یا عالم وعظ و نصیحت کرتا کوئی وظیفہ بتاتا میں ضرور پڑھتا تھا، لیکن دلی تسلی و تشفی سے خالی اور محرم راز کی جستجو میں محو مفتوں۔ گو ہماری بستی میں پہلے سے حضور کے غلام موجود تھے۔ خود میرا بھائی فقیر منیر احمد حضور کا خادم صالح ہے، لیکن میں اس سے لڑتا اور دوسرے فقیروں کا مذاق اڑاتا تھا۔ یہاں تک کہ حضور بچیکی تشریف فرما ہوئے اور میری خوش قسمتی کشاں کشاں مجھے وہاں لے آئی اور حضور کی زیارت سے میرے دل کی دنیا بدلی اور دوران مراقبہ گریہ زاری طاری ہوگئی، غیر معمولی سکون محسوس کرتا رہا۔ اس کے بعد اپنے بھائی منیر احمد کو درگاہ اللہ آباد شریف پڑھنے کے لئے بھیج دیا اور خود بھی اللہ آباد شریف، فقیرپور شریف حاضر ہوتا رہا۔ ایک مرتبہ حضور کے طلب فرمانے پر میں درگاہ شریف پر حاضر ہوکر تقریبًا چھ ماہ تک حضور کی صحبت میں رہا، حضور کے فرمان سے تبلیغی دوروں پر بھی جاتا رہا۔ اس دوران میں نے خوب دیکھا کہ حضور کا اٹھنا بیٹھنا، کلام کرنا، وضو نماز، روزہ افطاری، سب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے مطابق ہے۔ آپ سے سنت غیر مؤکدہ، مستحب تک نہیں چھوٹتا تھا۔ سفر میں بھی حضور کے ساتھ رہا اور دیکھا کہ باوجود ناساز طبیعت کے تہجد کے نوافل کھڑے ہوکر ادا کرتے اور کبھی بیٹھ کر بھی پڑھتے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آپ کو عشق کی حد تک لگاؤ تھا۔ تمام فقراء خاص کر دور سے آئے ہوئے فقراء پر آپ کی شفقت اور بھی زیادہ تھی، ہر طرح سے ان کی دلجوئی فرماتے تھے، خود اس عاجز کے لئے ایک مرتبہ مولانا مولوی جان محمد صاحب کے ہاتھ ۴۰ روپے بھیجے۔ حضور کی بے لوثی بھی بے مثال تھی۔ ایک مرتبہ فقیرپور شریف میں ایک شخص نے سو روپے کا نوٹ پیش کیا، آپ نے واپس کردیا، قبول نہیں فرمایا۔ ساتھ ہی دلجوئی فرماتے ہوئے بعض مرتبہ لے لیتے تھے۔ چنانچہ اسی دن ایک آدمی نے دس روپے پیش کئے آپ نے قبول فرمالئے، میں نے صرف ایک روپے کی خوشبو کی شیشی پیش کی حضور نے قبول فرمالی۔ الحمدللہ میرے والد صاحب نے حضرت پیر مٹھا رحمۃ اللہ علیہ کی بھی زیارت کی تھی، لیکن چونکہ بچپن سے حقہ سگریٹ کی عادت تھی کوشش کے باوجود ان سے نہ چھوٹ سکے۔ چنانچہ ایک مرتبہ میں ان کو درگاہ اللہ آباد شریف لے آیا، حضور سے دعا کروائی، ستر برس کے لگ بھک عمر ہونے کے بعد اس دن سے ان کو حقہ سگریٹ سے بدبو آتی ہے ان کے قریب تک نہیں جاتے۔ ایک مرتبہ لاڑکانہ میں حاجی عبدالکریم صاحب کے یہاں حضور کی دعوت تھی۔ دعوت نہایت پرتکلف تھی، تمام فقراء مزیدار پکا ہوا گوشت کھا رہے تھے۔ میں مولانا لانگری عبدالرحمٰن صاحب کے ساتھ بیٹھ کر کھارہا تھا کہ میرے دل میں حضور کی زیارت کا شوق مچل اٹھا۔ عین اسی وقت ایک فقیر حضور کا تبرک بھنڈی توری لے آیا اور کہا کہ یہ حضور نے پنجابی فقیر عبدالسلام کے لئے عنایت فرمایا ہے۔ میں نے لانگری صاحب سے کھانے کے لئے کہا لیکن انہوں نے کہا چونکہ یہ حضور نے خاص آپ کے لئے بھیجا ہے آپ کھائیں۔ یاد رہے کہ اس پروگرام میں پنجابی فقیر میں اکیلا تھا۔ حضور کی شفقتیں یاد کرکے اکثر روتا رہتا ہوں۔ درگاہ اللہ آباد شریف قیام کے دوران میں نے حضور کو انسانوں کے علاوہ جانوروں پر بھی شفقت کرتے دیکھا۔ چنانچہ ایک مرتبہ آپ نماز ظہر کے لئے تشریف فرما ہوئے اور فرمایا کہ آج میرے پڑوس میں ایک بکری بھوک کی وجہ سے ممیاتی رہی اور یہ عاجز اتنا بے قرار رہا کہ جس کی حد نہیں۔ حضور نے اس فقیر کو بلایا (نام لینا مناسب نہیں) اور خوب ڈانٹا، فرمایا جب بکری کو چارہ وغیرہ وقت پر نہیں دے سکتے تو اس کو باندھ کیوں رکھا ہے، صبح سے لیکر وہ بھوکی پیاسی ہے کچھ خدا کا خوف کرو وغیرہ۔ (۱) کرامت: جب حضور قبلہ عالم سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ نے اس عاجز کو شکرگڑھ کے علاقہ میں تبلیغ کا حکم فرمایا تو یہ عاجز تبلیغ کرتے (پاک بھارت) بارڈر پر چک سمال میں گیا۔ صبح کا وقت تھا، میں السلام علیکم کہہ کر بیٹھنے کا ارادہ کر رہا تھا کہ ایک آدمی مجھے لیکر گھر چلا گیا اور بتایا کہ رات میں نے خواب دیکھا کہ لکڑیاں جمع کررہا ہوں کہ اچانک ان میں آگ لگ گئی اور میں حیران و پریشان ہوا، اچانک ایک بزرگ نمودار ہوئے اور مجھے فرمایا اپنے خیالات تبدیل کرو۔ اس عاجز نے بزرگ کی علامات دریافت کیں تو محبوب سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ کا نقشہ بتایا۔ میں نے اس کو حضور کا تعارف کرایا، ذکر بتایا۔ حالانکہ وہ شخص اور اس کی بیوی اہلحدیث عقائد کے تھے اور بزرگوں کو مانتے ہی نہیں تھے، لیکن قربان جاؤں کہ حضور کی توجہ عالیہ سے عملًا ان کے خیالات تبدیل ہوگئے، اب وہ شخص، اس کی بیوی، بچے تمام حضور کے غلام ہیں اور بہت محبت والے ہیں۔ اس شخص کا نام محمد شفیع ہے۔ (۲) کرامت: پہلی مرتبہ جب حضور قبلہ عالم پاک بھارت سرحد پر واقع چک امرو تشریف لائے، قریب کی بستی سکھوچک سے آدمی ایک مریضہ عورت کو چارپائی پر اٹھاکر لائے جسے ڈاکٹروں نے لاعلاج کردیا تھا اور قریب المرگ نظر آرہی تھی۔ حضور نے شفقت فرمائی، پانی دم کرکے دیا، گلے میں ڈالنے کے لئے تعویذ بھی دے دیا جس سے وہ عورت شفایاب ہوگئی۔ اب تک زندہ ہے اور حق سوہنا سائیں حق سوہنا سائیں کہتی رہتی ہے۔ اسی شکرگڑھ کے قریب گاؤں پھلواڑی میں حضور قبلہ عالم رحمۃ اللہ علیہ کی دعوت ہوئی۔ جس گھر میں حضور قبلہ عالم کا قیام ہوا، اس سے پہلے اڑوس پڑوس کے لوگ وہاں جمع ہوکر حقہ بھی پیتے تھے اور رات گئے تک ادھر ادھر کی باتیں کرتے تھے، حضور کے قیام کی برکت سے اس گھر والوں نے خواہ پڑوس والوں نے ہمیشہ کے لئے حقہ چھوڑدیا، نمازی، باشرع، ڈاڑھی ٹوپی کے پابند بن گئے ہیں۔ الحمدللہ حضور قبلہ عالم کی رحلت کے گیارہ دن بعد ہمیں اطلاع پہنچی، لیکن خبر پہنچنے سے کئی روز پہلے سے بظاہر کسی وجہ کے بغیر میں بے چین رہا، سکون آرام غائب، ایسا دل کرتا کہ روتا رہوں، بھاگ جاؤں، کسی سے الجھتا رہوں۔ نہ معلوم یہ حضور کی جدائی مجھے تڑپا رہی ہے۔ خبر پہنچتے ہی اللہ آباد شریف حاضر ہوکر مزار انور پر دل کھول کر آنسو بہائے، ہچکیاں لیکر روتا رہا، مگر حضور نے تسلی دی، صبر کی تلقین کی، نیز حضرت سجن سائیں قبلہ سے بیعت کا فرمایا۔ الحمدللہ بعد از وفات بھی آپ نے میری رہنمائی فرمائی۔ کون کہتا ہے کہ اللہ والے مرگئے
|