فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

مکتوب ۱۹

حضرت صاحبزادہ دیدہ دل مدظلہ کی تعلیم و تربیت اور خدمت کے سلسلہ میں حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے نام تحریر فرمایا۔

۷۸۶

لاشئ فقیر اللہ بخش غفاری

بخدمت جناب نور چشم مولانا مولوی محمد طاہر صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ

السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! بعد از خیریت طرفین واضح باد کہ امید ہے کہ آپ بخیریت گھر پہنچ گئے ہوں گے۔
عرض یہ کہ جناب صاحبزادہ صاحب کے متعلق چند باتیں تحریر کی جاتی ہیں، آپ ہر طرح سے ہر حال میں ان کا پورا پورا خیال رکھیں کہ حضرت قبلہ عالم غوث الاعظم حضرت مرشدنا و وسیلتنا فی الدارین حضرت خواجہ رحمت پوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے اس عاجز خواہ ہم سب کے اوپر لاکھوں احسان بے پایاں ہیں، جو کچھ ہماری عزت ہے یہ ان کی نگاہ کرم و احسان کے طفیل ہے۔

ہر طرح سے صاحبزادہ صاحب کی دلجوئی، پیار و محبت اور میل جول رکھیں، اگر ان سے کسی قسم کی غلطی یا غفلت ہوجائے تو آپ خواہ کوئی استاد سختی نہ کریں، وقتًا فوقتًا پیار و محبت کے احسن طریقہ سے سمجھاتے رہیں، گرفت نہ کریں کہ پیار و لاڈ سے ان کی پرورش ہوئی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ تنگ ہوکر دوبارہ نہ آئیں اور تعلیم و صحبت سے محروم رہ جائیں۔

آپ خواہ استاد صاحبان تنہائی میں طلبہ کو تنبیہ کرتے رہیں کہ صاحبزادہ صاحب سے دوستی یاری، میل جول نہ رکھیں۔
دیگر یہ کہ ان کے کھانے وغیرہ کا خاص خیال رکھیں کہ ان کے مزاج کے مطابق سالن بناکر دیں، شہر میں کوئی لائق قصائی ہو تو اس سے گائے یا بکری کا گوشت کوئی ایک پاؤ لے کر نصف حصہ میں ایک مرتبہ سالن بناکر دیں اور نصف فریج میں رکھ کر ایک دن کے وقفہ سے سالن بناکر دیں۔

آلو دال کھاتے رہتے ہیں، بہتر سالن بناکر دینا۔ رات کے وقت کسی قدر زیادہ دودھ پیش کرنا، کھانے میں دیر نہ ہونے پائے، صبح کے وقت بھی لنگر سے پہلے اور ظہر کے بعد بھی کھانا دینا، خواہ صبح کے سالن کے ساتھ اگر بہتر حالت میں ہو، یا اچار کے ساتھ۔ ڈاکٹر صاحب والوں سے دو ڈھائی سیر لیموں کا اچار بنوالینا، ٹھنڈا پانی کھانے کے ساتھ بھی دیتے رہیں اور ویسے بھی۔

زبانی اخلاق، پیار، ادب و احترام کا خیال رکھنا، چارپائی اور بستر جس میں رلی، چادر، تکیہ اور گدیلہ بہتر ہوں دے دینا، کمرے میں پنکھا ضرور ہوگا، رات کو باہر سونے کے لئے پنکھا ضرور دے دینا، یہاں پر بوزدار فقراء نے ان کو علیحدہ پنکھا دیا تھا۔

آپ خواہ استاد صاحبان ضرورت کے تحت مناسب نصیحت بے شک کریں۔ ان کو احساس دلاتے ہوئے نصیحت کی جائے کہ آپ معمولی آدمی نہیں ہیں، آپ اپنے خاندان اور اعلیٰ مرتبہ کو دیکھ کر ذوق و شوق سے محنت کرکے جلدی کامیاب ہوجائیں، غریب آباد شریف کے پاکیزہ خاندان کو آپ کا زیادہ خیال ہوگا، وہاں پر تنہائی کی بھی تکلیف ہے، اس لئے آپ رات دن ہر وقت محنت کرتے رہیں۔

صبح کو جیسے ہی آپ کا درس مکمل ہو ان کو تقریر روزانہ کراتے رہیں۔ اس کے علاوہ ہر رات نماز عشاء سے پہلے پابندی سے تقریر کرتے رہیں۔ مولوی صاحب بیاض پر ان کو قرآنی آیات، احادیث شریفہ، فارسی، اردو، سندھی ابیات لکھ کر دیں اور یاد کرائیں۔

ان کی والدہ صاحبہ کو یہ شوق و حرص زیادہ تھا کہ یہ تقریر سیکھیں، یہاں پر ایک دو طالب علم ان کے ساتھ رہتے اور خدمت کرتے تھے، آپ بھی ان کا خیال رکھیں اور چند ایک شریف و صالح طالب علم ان کے ساتھ رہیں اور خدمت کریں۔ مولوی رحمۃ اللہ صاحب کی اہلیہ نیک خاتون ہے، صاحبزادہ صاحب کے کپڑے ان سے دھلا کر دینا، مولوی عبدالرحمٰن صاحب کی اہلیہ بھی باہمت نیک خاتون ہے، وہ بھی محبت سے کام کرتی رہتی ہے۔

میاں علی حیدر شاہ، میاں عبدالرزاق، دین پور کے جملہ فقراء باہمت ہیں، مکان کا کام ان سے کرائیں اور ان کے کھانے کا خیال رکھیں، ان کو ٹھنڈا پانی دیں، کھانے کا بہتر انتظام ہوگا تو قیام میں تنگ نہ ہوں گے، دعا و سلام آپ کی والدہ صاحبہ، ہمشیرگان، جمیل اور طارق کے عرض۔ فقیر کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔