| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
مکتوب ۲۱حضرت صاحبزادہ سجن سائیں مدظلہ کے نام تبلیغی و تعلیمی مساعی پر اظہار مسرت کرتے ہوئے تحریر فرمایا۔۷۸۶ لاشئ فقیر اللہ بخش نقشبندی غفاری از طاہر آباد بخدمت جناب نور چشم مولوی محمد طاہر صاحب سلمکم اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ الحمدللہ یہاں پر خیریت ہے، آپ کا خط پہنچا ہے۔ جلسہ بخیریت ہو گزرا،
جلسہ کا احوال دوستوں سے معلوم کرنا۔ آپ نے جس طرح اپنی با اخلاص محنت سے علمی درس جاری کیا ہے، اس سے ازحد خوشی حاصل ہوئی ہے، اگر ہوسکے تو ایک وقت درس قرآن اور ایک وقت درس حدیث شریف ہوتا رہے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس میں مزید قوت، علمی استفادہ، روحانی ترقی اور نورانیت عطا فرماوے، آمین۔ آپ بہرحال پوری طرح بیدار ہوکر مردانہ وار روحانی ترقی کے لئے کام کرتے رہیں، انشاء اللہ تعالیٰ کافی فائدہ ہوگا۔ مکان اور باغ کے متعلق عرض ہے کہ میاں علی حیدر شاہ صاحب اس کام کے لئے آرہا ہے، خلیفہ مولوی محمد ایوب صاحب اپنے دوستوں سمیت کام کیلئے آرہا ہے، یہ فقیر بھی بڑی ہمت سے کام کرنے والے ہیں اور تقریبًا ایک ہفتہ بعد خلیفہ گل محمد صاحب کے آدمی بھی کام کرنے آئیں گے، ان سے آپ ڈاکٹر صاحب خواہ مستری پیار و محبت سے پیش آئیں، ان کی قدردانی اور عزت کریں، خلفاء صاحبان کے ساتھ جو فقراء آئیں خواہ کچے کے فقراء کو آدمیوں کے حساب سے صبح کے وقت ناشتہ کے لئے ایک ایک روٹی اور لسی دیدیا کریں، حسب دستور جب لنگر کا کھانا آئے تو وہ بھی لے کر رکھیں اور دوپہر کے وقت کھائیں، ٹھنڈے پانی کی کوشش کرنا، بہت سارے دوست ہوں گے وہی مزدور کے طور پر بہت سے کام کریں گے۔ مستری ان کو تنگ کرکے نہ بھگائیں۔ کچے کے دوست باری باری سے آئیں۔ فی الحال باغ اور سبزیوں کا کام ہے، اس
کے ساتھ ہی مکان کا کام بھی کریں۔ میاں علی حیدر شاہ صاحب سے مشورہ کرکے
ضرورت کے مطابق باری مقرر کی جائے، اگر کام زیادہ ہو تو زیادہ آدمی مقرر
کئے جائیں تاکہ صحیح طور پر کام ہو۔ بعض اوقات تعمیر کے علاوہ بھی حویلی
میں کام کرنا ہوتا ہے وہ بھی کرایا جائے۔ کام کرنے والے فقراء اگر رات کے
وقت چاول کھانے پر راضی نہ رہیں تو ان کے لئے روٹی کا انتظام کیا جائے۔ لیموں کا باغ ٹھیکہ پر دیا ہوا ہے، طلباء کام کرنے والے خواہ کوئی دوسرا ان کا نقصان نہ کرے۔ اگر ٹھیکیدار اپنی خوشی سے طلبہ کیلئے کچھ لیموں دیتا رہے تو ۔۔۔ ورنہ میاں محمد عثمان صاحب نے جو ایک من ان سے لیا ہے کبھی کبھی اس میں سے طلبہ اور کام کرنے والے فقیروں کو دیتے رہیں۔ مولوی محمد عثمان چاولوں، لیموں، آموں، سبزیوں خواہ کسی دوسرے اندرونی و بیرونی انتظام کے سلسلہ میں کچھ بھی احوال نہیں لکھ رہے، بار بار خط لکھے گئے، زبانی تاکیدیں ارسال کی گئیں لیکن احوال کچھ بھی نہیں ۔۔۔۔ نہ معلوم کوئی چلہ کاٹ رہے ہیں کہ ان کو دوسرے کاموں سے منع ہے۔ آپ مولوی محمد عثمان صاحب، قاری صاحب، میاں محمد سلیمان اور عبدالرحمان چاول کی فصل کے لئے رات کو پانی دینے کی کوشش کریں کہ چاول کی فصل کو زیادہ پانی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اساتذہ، طلباء بمع جماعت ساری بستی کے مرد اور خواتین، چھوٹے خواہ بڑے، جملہ افراد میں دین کا صحیح جذبہ، درد اور تڑپ پیدا کریں۔ غفلت اور سستی کلیۃً ختم ہونی چاہئے۔ طلباء اور جماعت کے سالن کے لئے ٹینڈے اور آلو خریدتے رہیں، پیسے مولوی محمد عثمان صاحب کے پاس موجود ہیں، اس سے لیتے رہیں۔ پرانے اور نئے لگائے گئے بینگنوں کی محنت صفائی اور پانی دینے کی کوشش کی جائے تاکہ پھل زیادہ بر آئے۔ ہم تمام اہل خانہ کو آپ کے آنے کی تمنا و محبت ہے، امید ہے کہ آجائیں گے۔ وہاں پر کتنی ضرورت ہے آپ خود جانتے ہیں۔ طلباء کا تعلیمی کام پابندی سے مضبوط ہو، مطالعہ صحیح طریقہ سے کریں، مذاکرہ روزانہ جاری رکھیں۔ حاکم علی ایک نیک صالح، محبت والا، کام کرنے والا نہایت ہوشیار آدمی ہے، عبدالرحمٰن بھی لائق محبت سے کام کرنے والا ہے، اس کو روبرو تاکید کی گئی تھی۔ باغ میں سبزیوں کے ہل، کھاد وغیرہ کا کام شوق سے کرتے رہیں۔ بچھڑے اگر وہاں پر نہ بیچے گئے ہوں تو فقیرپور بھیج دیں، بلا ضرورت گھاس صرف ہورہا ہے۔ السلام ڈاکٹر صاحب، مولوی محمد عثمان صاحب، قاری صاحب، جملہ جماعت جمیع اساتذہ کو عرض۔ تاکید کی جاتی ہے کہ اندرونی و بیرونی تمام انتظام درست رہے، لنگر روٹی وغیرہ کا انتظام بہتر رہے، تاکید۔ اپنی والدہ صاحبہ اور ہمشیراؤں کے دعا سلام، جمیل، طارق اور ان کی بہن کے سلام مطالعہ کرنا۔ اپنی ہمشیرہ کو میری طرف سے، اس کی والدہ کی طرف سے، ہمشیراؤں کی طرف سے دعا سلام کہنا۔ ۱۵، ۱۷ دن سے بکرا تمہارے انتظام میں کھڑا ہے۔ والسلام
|