| فہرست |
سیرت ولی کامل (حصہ دوم) |
مکتوب ۸۵(محترم بیدار مورائی کے نام تصنیف و تالیف پر ہمت افزائی کا مکتوب تحریر فرمایا)تاریخ ۵ ماہ ربیع الاول بروز جمعرات بخدمت جناب محترمی عزیز القدر محبی مولوی فتح محمد صاحب! سلمہ اللہ تعالیٰ السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ۔ گرامی نامہ پہنچا، اخبارات کے پرچے اور اشتہار پہنچ چکے ہیں، بندہ کم ترین کی طبیعت درست نہ ہونے اور کوئی ایک ہفتہ مولوی غلام فرید صاحب (جو کہ بالکل بیمار کمزور تھے) کے پاس غریب آباد قیام رہا، تاخیر معاف فرماویں۔ آج بھی طبیعت درست نہیں ہے جبر کرکے چند الفاظ تحریر کئے گئے ہیں۔ تمنا یہ تھی کہ جواب باصواب اور کچھ گذارشات عرض کی جاویں، لیکن ایک طرف سستی دوسری طرف طبیعت کبھی کس حال میں۔ اشتہار بہترین ہے پسند کیا گیا، شاید چند الفاظ شامل کئے جائیں روبرو دوستوں سے مشورہ کرنا۔ آپ نے لکھا ہے کہ بوقت حاضری حرمین شریفین زادھما اللہ شرفًا و تعظیمًا و تکریمًا ۔۔۔۔۔ (دعاؤں میں یاد رکھیں) عرض یہ کہ اگر اس کا اظہار کیا جائے گا تو پڑھنے والا کہہ دے گا کہ یہ بڑا ریاکار آدمی ہے، بس اس کی شرح یہی کافی ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان عاجزانہ درد مندانہ پکار کو شرف قبولیت بخشا تو دنیا آخرت میں اس کے بہترین ثمرات، نتائج دیکھ کر خود اندازہ لگاسکو گے۔ بندہ کا کام ہے سوال کرنا، بخشش، انعام، مالک کریم الاکرمین کا خصوصی خاصہ ہے۔ آپ کی تحریر، تقریر، تصنیف، خدمت خلق کے لئے سعی بلیغ حسن کوشش کے لئے بے ساختہ مسرت کے یہ الفاظ جاری ہوجاتے ہیں۔ بیت شاد ہے قلب باغباں ابر بہار دیکھ کر سن کے نوائے جانفزاں کیوں نہ میں ہوں غزل سرا اس فقیر حقیر پرتقصیر کو دعا سے ہر وقت یاد رکھیں۔ جناب عزیزی محترمی منصور صاحب کی خدمت میں خصوصی سلام عرض، اللہ تبارک و تعالیٰ موصوف کو ظاہری، باطنی صحت و عافیت کاملہ عطا فرماوے، بندہ دعاگو ہے۔ مولوی غلام قادر صاحب، جملہ جماعت کو السلام عرض۔ لاشئ فقیر اللہ بخش غفاری از فقیرپور خط سرسری اور جلدی میں لکھا گیا کہ کہیں جواب رہ نہ جائے۔
|