فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

عرض مؤلف

 

حَامِدًا و مُصَلِّیًا و مُسۡلِمًا

اما بعد! نبی امی فداہ ابی و امی صلّی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ الہ و اصحابہ وسلم کے نائب حقیقی سیدی و مرشدی حضور شمس العارفین سراج السالکین خواجۂ خواجگان حضرت الحاج اللہ بخش نقشبندی فضلی غفاری (عرف سوہنا سائیں) نور اللہ مرقدہ نے امت محمدیہ علیٰ صاحبہا الصلٰوة والسلام میں اصلاح نفس کا انقلابی فکر بیدار فرمایا، علماء کرام کو ظاہری علوم کے ساتھ ساتھ باطنی علوم سے مانوس فرمایا اور صوفیاء کرام کے دلوں میں ذکر و شغل کے ساتھ ساتھ علوم دینیہ کی طلب پیدا فرمائی اور عوام الناس کو حقیقی زندگی سے روشناس فرماکر صراط مستقیم پر گامزن فرمایا۔

یہ حقیقت ہے کہ تقریر ہو خواہ تحریر، سامعین و قارئین کے قلوب و اذہان کو اسی قدر متاثر کر سکتی ہے جس قدر اس میں مقرر و محرر کے قلبی جذبات و احساسات کی آمیزش ہوگی۔ یہ اور بات ہے کہ بعض اوقات محرر کے انداز تحریر اور مقرر کے ولولہ انگیز خطاب کی جاذبیت یا واعظ سے والہانہ عقیدت و محبت بھی وقتی طور پر جذبات و احساسات میں موج انقلاب برپا کردیتے ہیں۔ لیکن تجربہ و مشاہدہ گواہ ہے کہ ان کی افادیت قطعی محدود و عارضی ہوتی ہے، اور کچھ ہی دیر بعد الآن کما کان (پہلی کی طرح ہوجاتے ہیں)۔

الغرض متکلم کی علمی و ادبی لیاقت اور فصاحت و بلاغت سے بڑھ کر مفید اور پائیدار چیز اس کا ذاتی کردار، عمل و اخلاص ہے۔ گو بظاہر کسی کے کلمات سادہ غیر فصیح کیوں نہ ہوں، لیکن اگر اس میں روحانیت کی چنگاری پنہاں ہے تو اس مخفی قوت کی بدولت اس کا کلام قاری و سامع کے قلب و روح کی گہرائیوں میں اترتا چلا جاتا ہے۔ اس لئے کہ

گفتۂ او گفتہ اللہ بود
گرچہ از حلقوم عبداللہ بود

جبکہ علوم باطن کے ساتھ علوم ظاہر کا ہونا نور علیٰ نور، سونے پر سہاگہ کا کام دیتا ہے۔

الحمدللہ سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ کی ہمہ گیر شخصیت ظاہر و باطن کی جامع، فصاحت و بلاغت، تقریر و تحریر غرض یہ کہ ان تمام اوصاف حمیدہ سے متصف تھی جو کہ ایک مصلح مبلغ معلم و مربی میں ہونی چاہییں۔
آپ کے پرتاثیر خطبات و مواعظ دل کی گہرائیوں سے جا ٹکراتے، فوری اور دیرپا نیکی و تقویٰ کے لئے سامع کو تیار کرتے، تو آپ کے پر مغز مکتوبات اور دل موہ لینے والے پرتاثیر مقالات و مضامین قاری کے قلب و روح میں سرایت کر جاتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وقت کی رفتار کے ساتھ ساتھ آپ کے ارشادات اور تحریرات سے استفادہ میں اضافہ ہی ہوتا چلا گیا۔ اللّٰھم زد فزد۔

دادیم ترا ز گنج مقصود نشان
گر ما نرسیدیم شاید تو برسی

پیش نظر یہ کتاب (سیرت ولی کامل) ان ہی کی سیرت و سوانح حیات پر مشتمل ہے، لیکن اس کی اشاعت کا مقصد محض ان کی شخصیت کو نمایاں کرنا نہیں، بلکہ بنیادی غرض و مقصد شریعت و طریقت کے مختلف زاویوں کو حضور نور اللہ مرقدہ کی عملی زندگی کی صورت میں نمایاں کرنا ہے، تاکہ قارئین بھی آپ کی طرح اپنی مستعار زندگیوں کو اسلامی احکام کے قالب میں ڈھال کر ظاہر کے ساتھ اپنا روحانی و باطنی پہلو بھی سنواریں اور اپنے حقیقی معبود و محبوب کی معرفت حاصل کر کے کامیاب و پاکیزہ زندگی بسر کریں۔

اس لئے یہ کتاب حضرت نور اللہ مرقدہ کے مریدین و مسترشدین کے لئے ہی نہیں، تمام مسلمانوں کے لئے یکساں مفید ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سیرت ولی کامل حصہ اوّل کو (کتابت، طباعت، عکسی تصاویر اور جلد بندی کے سقم کے باوصف) اندرون خواہ بیرون ملک غیر معمولی مقبولیت حاصل ہوئی، شریعت و طریقت کے ہزاروں سالکوں نے اس سے استفادہ کیا، علماء اور ائمہ مساجد نے باقاعدگی سے اس میں سے درس کا سلسلہ شروع کیا اور مختصر سے وقت میں یہ ضخیم کتاب (640 صفحات پر مشتمل) نایاب ہوگئی۔ ساتھ ہی طالبان طریقت کی طلب و تشنگی میں اضافہ اور دوبارہ اشاعت کے لئے اصرار ہونے لگا، جو کہ اس عاجز کی ہمت افزائی کے لئے کافی، عنداللہ تعالیٰ شرف قبولیت کی علامت (صالحین بندوں کے ہاں کسی چیز کا مقبول ہونا، اللہ تعالیٰ کے حضور قبولیت کی دلیل ہے)، اور اکابرین طریقہ عالیہ بالخصوص حضرت صاحب سوانح نور اللہ مرقدہ کی روح پرفتوح کی رضا و خوشنودی کی دلیل ہے۔ اور یہی کچھ اس عاجز کا مقصود مطلوب ہے۔ و للہ الحمد۔

اسی اثناء میں حضرت قبلہ صاحبزادہ مولانا محمد طاہر صاحب (عرف حضرت سجن سائیں) دامت برکاتہ کی خصوصی دلچسپی اور عملی تعاون سے اس عاجز نے حضور نور اللہ مرقدہ کے تحریر کردہ چند مقالات، بیش بہا مکتوبات شریفہ، حالات زندگی کے باقی ماندہ کچھ واقعات، تجاویز و ہدایات (جو کہ آپ نے مختلف اوقات میں تحریر فرمائے)، منتخب حکایات و واقعات، نیز ملفوظات طیبات، خلفاء کرام اور دیگر مقتدر شخصیات کے قابل قدر مشاہدات و تاثرات کا معتمد بہ ذخیرہ جمع کرلیا، جسے دیکھ کر حضرت صاحب مدظلہ نے ازحد پسند فرمایا، ساتھ ہی اسے شائع کرنے کا امر فرمایا۔ نیز فرمایا کہ اس کی اشاعت پر خواہ کتنی ہی خطیر رقم خرچ کرنی پڑے لیکن کتابت و طباعت اور جلد بندی کا معیار اعلیٰ سے اعلیٰ تر ہو۔ گو حضور سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ ایسی شخصیت (جن کا اوڑھنا بچھونا قرآن و سنت پر عمل اور اشاعت شریعت و طریقت تھا) کی حیات آفرین حالات زندگی کے تمام زاویوں کا احاطہ، اسی طرح آپ کی اعلیٰ شان کے مطابق اشاعت کے مراحل طے کرنا اس عاجز ناتواں کی حیثیت سے بدرجہا ماورا ہے۔

لیکن چونکہ حضور دامت برکاتہم العالیہ کی رہنمائی بلکہ ذاتی نگرانی ابتدا تا انتہا حاصل رہی، اور حضور کے اعلیٰ ذوق کے مطابق عام کتابت کی بجائے کمپیوٹر سے کتابت کا اہتمام کیا گیا، نیز طباعت و جلد بندی میں بھی آپ کی رہبری ساتھ رہی ہے۔ اس لئے بجا طور پر کہا جاسکتا ہے کہ اس کا معیار کافی بہتر ہے، پھر بھی ۔۔۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

نفس کتاب کے متعلق گزارش ہے کہ بندہ نے حتی المقدور یہ پوری کوشش کی ہے کہ حضور کے سندھی یا اردو مقالات اور مضامین کے نقل اور ترجمہ کے وقت ترتیب و معنیٰ میں کسی طرح کی کمی بیشی نہ ہونے پائے اس لئے کے بزرگوں کے کلام کی ترتیب بھی باعث تاثیر و برکت ہوتی ہے، تاہم اگر کسی قسم کا سقم نظر آجائے تو اس کو احقر مرتب کی نااہلی سمجھ کر غلطی سے مطلع فرماویں تاکہ آئندہ اشاعت میں اس کی اصلاح کی جاسکے۔

آخر میں یہ عاجز بارگاہ الٰہی میں بصد عجز و انکسار دست بدعا ہے کہ اے میرے مولیٰ میری کوتاہیوں کو درگزر فرماکر اپنی محبت و معرفت، اپنے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل محبت و اتباع سنت نصیب فرما، اور مرشد کامل حضرت سوہنا سائیں قدس سرہ اور حضرت سجن سائیں مدظلہ کی محبت و معیت دنیا و آخرت میں عطا فرما، اور مدۃ العمر ان کے نقش قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرما، اور ان حضرات سے صحیح معنوں میں استفادہ کے ساتھ ساتھ ان کی مثالی دینی خدمات (تبلیغی، تربیتی پروگرامز دربار عالیہ اللہ آباد شریف و دیگر ذیلی مراکز میں ہونے والے ماہوار، ہفتہ وار اصلاحی روحانی پروگراموں نیز ان حضرات کے نورانی خطابات، کرامات و کمالات کو ضبط تحریر میں لاکر زیادہ سے زیادہ عام کرنے کی توفیق عطا فرما اور اس ادنیٰ خدمت کو اس عاجز سیہ کار اور بزرگ والدین کے لئے پروانہ مغفرت بنادے۔

آمین یا رب العالمین بحرمۃ سید الاولین والآخرین صلی اللہ تعالیٰ علیہ و علیٰ آلہ وصحبہ وسلم۔

لاشئ فقیر حبیب الرحمٰن گبول طاہری بخشی غفاری

درگاہ اللہ آباد شریف، کنڈیارو سندھ

21/6/1412ھ