فہرست
سیرت ولی کامل (حصہ دوم)

اوقات آن بود کہ با یار بسر رفت

از عمدۃ الواصلین ولی بن ولی خلف الرشید حضرت صاحبزادہ محمد طاھر صاحب عرف سجن سائیں دامت برکاتہم العالیہ

آستانہ عالیہ اللہ آباد شریف

میرے مرشد مربی مہربان

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلّی علیٰ رسولہ الکریم

اما بعد! حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ نور اللہ مرقدہ کی ظاہری جدائی کے بعد یہ عاجز ناچیز سخت پریشانی و اضطراب محسوس کرتا، اور اپنی بے قدریوں کو یاد کرکے روتا تھا۔ خاص کر جماعت کے بیحد و وسیع و گراں بار کام کے متعلق سوچ کر اپنی عدم صلاحیت کو محسوس کرکے دماغ ایسا ماؤف سا ہوجاتا اور ہمت جواب دے جاتی۔ کسی ایک جگہ ٹھہرنا، بیٹھ جانا مشکل ہوجاتا تھا۔ مسلسل بے چینی کے عالم میں گھر میں اِدھر اُدھر ٹہلتا رہتا تھا۔

ان ہی دنوں جب حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ کے وصال کو بمشکل ایک مہینہ ہو گزرا تھا کہ دوستوں نے کراچی میں تبلیغی پروگرام رکھے۔ درگاہ اللہ آباد شریف سے باہر جماعت کو قریب سے دیکھنے کا یہ پہلا موقع تھا۔ جماعت نے کثیر تعداد میں مذکورہ پروگراموں میں شرکت کی۔ جمیع جماعت خصوصًا خلفاء کرام کی محبت و نسبت اور تعلق نے اس عاجز کا حوصلہ بڑھایا۔ مجھ جیسے پسماندہ شخص کو اس قدر تعظیم مل رہی تھی، یہ سب حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ کی نسبت، دستِ شفقت اور سایۂ عاطفت کا اثر تھا ؎

جب تک میں بکا نہ تھا کوئی پوچھتا نہ تھا
تُو نے مجھے خرید کر انمول کردیا


مذکورہ تبلیغی دورہ کے دوران اس عاجز کے استادِ محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا منتخب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ نے ایک جلسہ میں جو کہ محترمی و مشفقی مولانا محمد رمضان صاحب کی مسجد میں منعقد ہوا تھا شرکت فرمائی۔ استاد صاحب میرے مرشد مربی مہربان کے فقراء کی اہلِ ذکر جماعت دیکھ کر بے حد خوش ہوئے اور اس موقعہ پر آپ نے ایک یادگار تقریر فرمائی جس سے اس عاجز کو مزید حوصلہ عطا ہوا۔ اس طرح وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ الحمدللہ تائیدِ الٰہی سے تبلیغی اور تنظیمی کام میں استحکام پیدا ہوتا رہا اور ان میں مزید ترقی ہوتی رہی۔

کوئی ایک سال کے عرصہ بعد ایک دفعہ پھر اس عاجز کا تبلیغی پروگراموں کے سلسلہ میں کراچی جانا ہوا۔ وقت نکال کر اپنے استاد محترم حضرت شیخ الحدیث مولانا منتخب الحق قادری رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس بار ملاقات کے موقعہ پر حضرت شیخ الحدیث صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا فرمایا ہوا ایک جملہ اس عاجز کے واسطے انقلاب آفریں ثابت ہوا۔ ملاقات کے وقت حضرت شیخ الحدیث صاحب درسِ حدیث دے رہے تھے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ یہ عاجز ان کے درس سے فراغت کا انتظار کرتا، لیکن ان کے چہرہ مبارک پر نظر پڑتے ہی ایک ایسی کشش محسوس ہوئی کہ یہ عاجز بے اختیار استاد محترم کے قدموں میں جاگرا۔ آپ نے کمال شفقت و پیار سے اُٹھا کر مصافحہ کا شرف بخشا اور غور سے میرے چہرہ کی طرف دیکھنا شروع کردیا۔ ساتھ ہی اُن پر محویت و استغراق کی کیفیت محسوس ہورہی تھی کہ ایک لمحہ کے لیے ان کی نظریں میرے چہرہ سے ہٹ کر خلا میں گھورنے لگیں۔ پوری محفل خاموش ان کی گفتگو سُننے کی منتظر تھی ۔۔۔ آخر میں آپ نے اس عاجز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ جملہ فرمایا ”اس پر بڑوں کا سایہ ہے“۔ یہ کلمہ سن کر میرے دل کی دھڑکن تیز ہوگئی اور آنکھوں میں پانی بھر آیا، اور پورے جسم میں خوشی کی ایک لہر س دوڑ گئی۔ میری تنہائی کا درد ختم ہوگیا، اضطراب و پریشانی کافور ہوگئی۔ خوشی سے اچھلنے کودنے کو جی چاہ رہا تھا کہ دنیا کے ہر فرد کو بتادوں کہ اس عظیم مشن میں میں تنہا نہیں، لاوارث نہیں، میرے وارث ہیں، میرے مرشد مربی مہربان میرے ساتھ ہیں۔ اگر مجھ جیسے سخت دل انسان کے دل میں ذرہ بھر درد و فکر پیدا ہوا ہے تو یہ بھی ان کی نظر کرم کا اثر ہے۔ اگر جماعت میں جذبۂ عمل بیدار ہے تو یہ بھی آپ ہی کے فیض پرتاثیر کی بدولت ہے۔ اور اگر نوجوان حضرات آج دین کا پیغام اوروں تک پہنچا رہے ہیں تو یہ آپ کی پردرد دعاؤں کا ثمر ہے۔ ورنہ میری کیا مجال، میں مسکین کہاں اور تبلیغ دین کہاں!

نسبی والد تو اپنے بچوں سے جدا ہوسکتا ہے لیکن حضرت سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہ تو صرف نسبی نہیں بلکہ میرے روحانی والد بھی ہیں۔ گو سر کی آنکھوں سے تو دور ہیں لیکن قلبی آنکھوں کے سامنے ہر دم موجود ہیں۔ آپ کی رہائش میری روح میں ہے۔ آپ کی قربت ہی سے میرے جسم میں حرکت اور حرارت پیدا ہوتی ہے اور میں راہِ خدا میں نکل دور دراز کا سفر کرتا ہوں ؎

معیت گر نہ ہو تیری تو گھبراؤں گلستاں میں
رہے تو ساتھ صحرا میں بھی گلشن کا مزا پاؤں

ایک انسان کی کردار سازی میں والدین، اساتذہ اور پیر کامل کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔ الحمدللہ اس مسکین کو مذکورہ تینوں ہستیاں کامل اکمل ملیں۔ دل تو چاہتا تھا کہ تفصیل سے ہر ایک ہستی کا تذکرہ کروں لیکن یہ بختصر مضمون تو شاید اس کا متحمل نہ ہوسکے۔ تاہم یہاں پر پیر کامل کا تذکرہ کیوں نہ کروں جن کے تذکرہ کے بغیر تو میں اپنا صحیح تعارف بھی نہیں کراسکتا۔

دوستو! میں بڑا خوشنصیب ہوں، مجھے اپنی خوش قسمتی پر فخر ہے۔ میرے فخر کا باعث اور سبب کیا ہے؟ میں آج آپ کو بتائے دیتا ہوں۔ میں گناہ گار، سیاہ رُو سہی، لیکن مجھے ایک کامل و اکمل ہستی کی زیارت نصیب ہوئی ہے، ان کی قربت نصیب ہوئی ہے، چند لمحات ان کی صحبت نصیب ہوئی ہے، ان کے ساتھ سفر و حضر میں رہنے کا موقعہ ملا ہے، بس وہی ساعات اور لمحات میری زندگی کے متاعِ عزیز ہیں، میرے لیے قیمتی سرمایہ ہیں اور عزت و افتخار کے باعث بھی۔ یقینًا آخرت میں بھی اسی ایک عمل کی بدولت نجات ملے گی۔ ورنہ میرے اعمال کے تمام دفتر سیاہ ہیں۔ داہنے کندھے پر بیٹھا ہوا فرشتہ فارغ ہی فارغ ہے جب کہ بائیں کندھے پر بیٹھے ہوئے فرشتے کو ایک لمحہ بھی فراغت میسر نہیں ہے ؎

یہ فخر تو حاصل ہے گو برے ہیں یا بھلے ہیں
دو چار قدم ہم بھی تیرے ساتھ چلے ہیں

آپ کے اس عظیم مشن کا مقصد رسمی پیری مریدی، دنیاداری یا سیاست بازی نہیں، بلکہ بندوں کو اللہ کے ساتھ ملانا، ہمارے آقا و مولیٰ سرورِ دین و دنیا، فخرِ رسل و انبیاء آنحضرت علیہ افضل الصلوٰت و اکمل التحیات کے عشق اور تابعداری کا درس دینا اور شریعت مطہرہ پر عمل و استقامت، غیر اسلامی و غیر شرعی رسوم و رواج سے روکنا ہے۔
یقینًا خوش نصیب ہیں وہ افراد جو آپ کی پکار پر لبیک کہہ کر آگے بڑھے، ساتھ دیا، نہ صرف اپنی اصلاح کے لیے کوشاں رہے بلکہ مخلوق خدا کے فائدہ اور اصلاح کے لئے دوڑ دھوپ کرتے رہے۔ بلاشبہ جس نے دردِ دین کو اپنے دل میں جگہ دی وہ دوسرے تمام غموں سے آزاد ہوگیا۔ اصل غم تو دین کا غم ہے، دوسرے غم تو بے سود ہیں۔

غمِ دین خور کہ غم غمِ دین است

جس کسی بھی صاحب ایمان فرد کے دل میں مخلوقِ خدا سے بھلائی کرنے اور فائدہ پہنچانے کا درد سمایا ہوا ہے واقعی وہ اعلیٰ و افضل انسان ہے۔ مخلوقِ خدا کی بھلائی اور فائدہ اس سے بڑھ کر اور کس چیز میں ہوسکتا ہے کہ بندہ اپنے خالق و مالک اللہ تعالیٰ کی قربت اور رضا حاصل کرلے اور آخرت والی حقیقی، اصلی اور لافانی کامیابی حاصل کرلے۔ میرے مرشد مربی نور اللہ مرقدہ بھی یہی درد دل میں رکھتے تھے اور اپنے متعلقین کے دلوں میں بھی یہی درد بیدار کرنا چاہتے تھے ؎

دردِ دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو
ورنہ طاعت کے لیے کچھ کم نہ تھے کروبیاں

اے میرے مرشد مربی کے تیار کردہ علماء!

کیا آپ حضرات کے دردِ دل میں کمی آگئی ہے؟ کیا آپ نے اپنے کیے ہوئے وعدے اور اقرار بھلا دیئے ہیں؟ علماء تو دنیا میں بہت سارے ہیں لیکن آپ کی شان امتیازی ہے۔ آپ اللہ کے ایک برگزیدہ، پیارے، صاحبِ دل انسان کے زیرِ تربیت رہ کر پروان چڑھے ہیں۔ آج اگر آپ نے بھی دینِ متین کی تبلیغ سے منہ موڑا، شرعی حدود کی حفاظت کرنا چھوڑدیا تو وہ کون سے افراد ہوں گے جن کی طرف ہم دیکھیں، لہٰذا اُٹھو ۔۔۔ جاگو ۔۔۔ قدم آگے بڑھاؤ، میدان تیار ہے ۔۔۔ شہسوار بھی ہر طرح کی صلاحیت سے لیس ہیں ۔۔۔ تو پھر ان میں سستی کیوں ہے؟ بس تمہارے قدم رکھنے کی دیر ہے، میدان تمہارا ہے۔ آپ میدان کے فاتح ہوسکتے ہیں۔ چاہیے کہ آپ روحانی طلبہ جماعت اور اصلاح المسلمین کے کارکنوں سے قریبی رابطہ رکھیں، ان کی رہنمائی کریں۔ خلفاء کرام سے فائدہ اور فیض حاصل کریں۔ یہ افراد میرے مرشد مربی کے نائب ہیں اور اپنی زندگیاں دینِ متین کے لیے وقف کرچکے ہیں، ان کی صحبت و ہم نشینی سے آپ کو فائدہ اور فیض حاصل ہوگا۔ اپنے آپ کو عالم نہ سمجھو بلکہ خادم سمجھو، فقیر سمجھو، ہر ایک انسان سے خود کو کمتر سمجھو۔ دوسروں پر نکتہ چینی نہ کرو، بلکہ اپنے نفس کے نکتہ چین بنو ؎

نہ تھی حال کی جب ہمیں خبر، رہے دیکھتے اوروں کے عیب و ہُنر
پڑی اپنی برائیوں پہ جب نظر، تو نگاہ میں کوئی برا نہ رہا

روحانی طلبہ جماعت کے جانباز سپاہیو!

الحمدللہ آپ نے میرے دل کو خوش کیا ہے۔ آپ نے میدان عمل میں قدم رکھا ہے ۔۔۔ لیکن منزل ابھی کافی دور ہے۔ برائی جس رفتار سے پھیل رہی ہے، بے دینی عام ہورہی ہے ۔۔۔ اس اعتبار سے ہماری یہ کوششیں ناکافی اور کم ہیں۔ آپ مجاہد مرد ہیں ۔۔۔ اسلام کے غازیوں، شہیدوں کا کردار ادا کرکے دکھائیں ۔۔۔ اللہ تعالیٰ اور ہمارے آقا و مولیٰ آنحضرت علیہ افضل الصلوٰت و اکمل التحیات کے فرمودات پر جان و مال قربان ہے ۔۔۔ ایک مرتبہ نہیں سو مرتبہ قربان ہے ۔۔۔ شیطان کے عنکبوتی تانے بانے سے نہ گھبرائیں، آپ شاہین ہیں، آپ کی پرواز بلند ہونی چاہیے ۔۔۔ بے دینی کے طوفان، بے حیائی کے بادِ سموم سے نہ گھبرائیں۔ اللہ تعالیٰ تمہارا حامی و ناصر ہے، بس اسی کی رضا اور اسی کے حکم پر نظر ہو، کامیابی تمہارا مقدر ہے ؎

ارادے جن کے پُختہ ہوں، نظر جن کی خدا پر ہو
تلاطم خیز موجوں سے وہ گھبرایا نہیں کرتے

آپ کی صفوں میں اتحاد و اتفاق ہو، اپنے عمل و کردار پر نظر ہو، دل غیر کی محبت اور خیالات سے آزاد اور اللہ تعالیٰ کے ذکر میں مشغول ہو، مراقبہ اور نماز تہجد سے اپنی راتوں کو روشن رکھو، خلفاء کرام کا ادب کرکے ان سے فیض حاصل کریں، علماء کے قریب رہو، ان کی رہنمائی کی تمہیں ضرورت ہے۔

اے اصلاح المسلمین کے جان نثار کارکنو!

آپ کی تنظیم کو یہ اعزاز اور امتیاز حاصل کہ جملہ تنظیموں سے پہلے یہ تنظیم وجود میں آئی اور نام بھی کتنا خوبصورت اور پیارا ”اصلاح المسلمین“۔ سبحان اللہ! اسی طرح تمہارا کام بھی خوبصورت اور دل پذیر ہونا چاہیے۔ یہ عاجز اس دن کے انتظار میں ہے جب اصلاح المسلمین کے وفود سندھ، پنجاب، بلوچستان اور سرحد میں پہنچیں اور مؤثر انداز میں کام کریں۔ روحانی طلبہ جماعت کی طرح اللہ آباد شریف کے اسٹیج پر کھڑے ہوکر اپنی کارگزاری سنائیں تو دل خوش ہوجائے۔ الحمدللہ سالانہ عرس شریف اور دیگر پروگراموں میں آپ کی خدمت کا جذبہ قابل مبارکباد ہے۔ اللہ تعالیٰ اس شعبہ میں آپ کو مزید ترقی عطا فرمائے، ریا اور تکبر سے محفوظ رکھے، ہر ایک عمل اللہ تعالیٰ کی رضا کے واسطے ہو ؎

انسان کو لازم ہے رہے دور ریاء سے
یہ چیز جُدا کرتی ہے بندے کو خدا سے

حضرات خلفاء کرام کی خدمت میں چند معروضات:

آپ حضرات حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ و نور اللہ مرقدہ کے نائب مناب اور جمیع جماعت میں معتمد علیہ افراد ہیں، آپ کی ذمہ داریاں بھی آپ کی بلند اقبالی و اعلیٰ رتبہ کی طرح بہت زیادہ ہیں، آپؒ کی عطا کی ہوئی خلافت فقط ایک اعزاز نہیں ہے بلکہ ایک بہت بڑا بار اور فریضہ ہے، اس اعزاز پر وہی فخر کرسکتے ہیں جو خلافت کے تقاضوں کو بھی پورا کرتے ہیں، ورنہ تساہلی و سستی کرنے والے افراد عنداللہ جوابدہ ہوں گے۔

آپ سے یہی توقع کی جاسکتی ہے کہ ہر وقت خدمتِ دین، تبلیغ اسلام کے لیے کمر بستہ رہیں گے، اس عظیم مشن کے پھیلانے میں کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کریں گے۔ جن جن علاقوں میں آپ تبلیغ کرتے ہیں اگر وہ علاقے دور دراز ہیں تو بھی مہینہ میں ایک بار ضرور جائیں اور اگر قریب ہیں تو اور بھی جلدی جاتے رہیں۔

تبلیغی مصروفیات کے دوران اپنی اصلاح سے غافل اور لاپرواہ نہ بنیں، بلکہ ہر وقت مستعد اور ہوشیار رہیں مبادا کہیں عدوِ مبین ہمیں تکبر، ریا یا طمع میں ملوث نہ کر ڈالے۔ طریقہ عالیہ کے اصول و ضوابط کو ہر وقت اپنے لیے رہبر و رہنما سمجھیں، اس پر عمل کیے بغیر مشائخ کے فیض اور تائید الٰہی کا حصول ناممکن ہے۔ رسمی اور غیر شرعی کاموں سے نہایت درجہ محتاط رہیں۔ اوامر پر عمل کے ساتھ ساتھ منہیات سے بچنے کی بھرپور کوشش کریں۔ باطنی ترقی کا مدار منہیات سے بچنے پر ہے، دیگر کوئی بھی صورت نہیں ہے۔

اکثر خلفاء کرام ماہانہ جلسہ سے غیر حاضر رہتے ہیں، حالانکہ یہ آپ کی اہم ذمہ داری ہے اس میں کسی قسم کی سستی نہ کریں۔ اگر پہلے سستی رہی ہے تو آئندہ نہ رہے۔ معقول عذر ہونے کی صورت میں بذریعہ خط مطلع کریں۔

اپنی اصلاح کے لیے سال میں مسلسل چند دن نکال کر دربار عالیہ اللہ آباد شریف یا فقیرپور شریف میں آکر رہیں اور لنگر کی خدمت میں دوسروں سے پیش پیش رہیں ؎

ہر کہ خدمت کرد او مخدوم شد
ہر کہ خود را دید او محروم شد

سوہنے کی سوانح حیات پر مشتمل یہ سوہنی کتاب موسوم بہ ”سیرت ولی کامل“ ایک عظیم تحفہ کی صورت میں جماعت غفاریہ بخشیہ کے سامنے پیش کی گئی ہے۔ فاضل مصنف نے جو کہ اس عاجز کے فیض رساں محسن استاد ہیں، بڑی محنت جدوجہد سے مواد اکٹھا کیا اور اس کو مرتب کیا ہے۔

حضرت قبلہ مولانا حبیب الرحمٰن صاحب مدظلہ العالی کو حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ و نور اللہ مرقدہ سے جو عقیدت و محبت حاصل ہے وہ اس کتاب کی ایک ایک سطر سے عیاں ہے۔ جماعت غفاریہ بخشیہ پر آپ کا یہ عظیم احسان ہے کہ مرشد مربی نور اللہ مرقدہ کی سیرت و سوانح حیات سے ہمیں واقف کیا، اور ان کی حیاتِ طیبہ کے جو اہم گوشے ہم سے پوشیدہ تھے ہمارے سامنے واضح ہوگئے اور ہمیں ان کے فکر اور درد سے واقفیت حاصل ہوئی۔ استاد محترم حبیب الرحمٰن صاحب مدظلہ العالی اولادِ نرینہ سے اب تک محروم ہیں، تمام احباب سے گذارش ہے کہ وہ ان کے حق میں دعا فرمائیں کہ اللہ تعالیٰ انہیں نیک صالح فرزند عطا فرمائے۔ آمین!

ہمیں چاہیے کہ ان کی سیرت و سوانح حیات کو پورے انہماک سے پڑھیں، ان کے نقش قدم پر چل کر اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب حاصل کریں۔ اس موقعہ پر ہمارے وہ پیارے دوست قابلِ تحسین ہیں جنہوں نے کتاب کی اشاعت میں ہر طرح سے ہمارے ساتھ تعاون کیا اور ہر مشکل مقام پر ساتھ دیا۔ جنہوں نے خوب سے خوب تر اور بہتر سے بہترین کی تلاش میں اور کتاب کو خوبصورت و دیدہ زیب بنانے میں بڑی مدد کی۔ آفرین ہے ان نوجوانوں پر جنہوں نے اپنا قیمتی وقت اس عظیم کام کے لیے وقف کیا۔ فجزاھم اللہ عنی خیرًا۔

بڑے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ ہم بے قدرے ہیں۔ ان کتابوں کی اہمیت سے ناواقف ہیں، چند روپے خرچ کرنا بھی مشکل نظر آتا ہے۔ ہماری بے قدری کا ایک واقعہ جو درگاہ فقیرپور شریف میں قیام کے دوران پیش آیا، وہ یہ کہ بیدار مورائی صاحب نے حضرت قبلۂ عالم قلبی و روحی فداہ نور اللہ مرقدہ کے امر سے جماعت کی بھلائی کے لیے بڑی محنت سے راتیں جاگ کر کتاب تصنیف کی لیکن خریدنے کے لیے کوئی تیار نہ تھا۔ وہ کتابیں پڑی رہیں اور دیمک کی نذر ہوگئیں اور کچھ حضرت قبلہ عالم قلبی و روحی فداہ نے درگاہ فقیرپور شریف کے قبرستان میں دفن کرادیں۔

الحمدللہ اس وقت کوئی ایسی صورت نہیں ہے۔ دوستوں میں پہلے کی نسبت بہتر شعور ہے اور کتابوں کے مطالعہ کی اہمیت محسوس کرکے کتابیں خریدتے ہیں لیکن اس شوق اور شعور میں اور بھی اضافہ ہونا چاہیے۔ اکثر دوستوں کو یہ معلوم نہیں ہوگا کہ اس کتاب کی اشاعت میں کس قدر محنت ہوئی ہے اور کتنا خرچہ ہوا ہے۔ یہ خبر ان افراد کو حاصل ہے جنہوں نے اس کتاب کی اشاعت کے لیے دن رات جدوجہد کی، اور اس کتاب کی قدر ان افراد کو ہوگی جن کو اپنے کامل پیر سے سچا عشق اور پکی نسبت حاصل ہے۔

لاشئ فقیر محمد طاھر بخشی

سگِ دربار عالیہ اللہ آباد شریف

۱۷ ربیع الآخر ۱۴۱۳ھ