[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۱

ارکانِ اسلام

عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُنِيَ الْاِسْلَامُ عَلىٰ خَمْسٍ شَهَادَةِ اَنْ لَّآ اِلٰهَ اِلَّا اللهُ وَ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهٗ وَ رَسُوْلُهٗ وَ اَقَامِ الصَّلوٰةِ وَ اِيْتَآءِ الزَّكوٰةِ وَ الحَجِّ وَ صَومِ رَمَضَانَ.

متفق علیہ ص۱۰ زجاجۃ المصابیح

اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔

(اوّل) یہ گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور رسول ہیں۔ اور (دوم) نماز درست طریقہ پر ادا کرنا، اور (سوم) زکوٰۃ ادا کرنا، اور (چہارم) حج، اور (پنجم) رمضان کے روزے رکھنا۔

وضاحت

یہ حقیقت عالم آشکارا ہے کہ کسی بھی عمارت کا مدار اس کی بنیادوں پر ہوتا ہے۔ جس قدر اس کی بنیادیں مضبوط و مستحکم ہوں گی، اسی قدر اس پر بنی ہوئی عمارت بھی مضبوط ہوگی۔ بنیادیں کمزور اور ناقص ہونے کی صورت میں اگر کوئی عمارت بظاہر عمدہ و خوبصورت بنادی بھی جائے تو بھی حقیقت حال جاننے والوں کی نظر میں اس عمارت کی کوئی اہمیت نہیں ہوگی۔ اسی طرح اسلام کی بنیاد ان پانچ چیزوں پر رکھی گئی ہے۔ (۱) کلمہ طیّبہ (۲) نماز (۳) زکوٰۃ (۴) حج بیت اللہ (۵) روزہ ماہ رمضان۔ ان پانچ ارکان اسلام کو دل و زبان سے ماننا فرض و لازم ہے۔ ان میں سے کسی ایک کے انکار کرنے سے بھی آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہوجاتا ہے۔