[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۴

اقامتِ صلوٰۃ

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ اَنَّ رَسُوْلَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ الصَّلوٰةُ الْخَمْسُ وَ الْجُمُعَةُ اِلَى الْجُمُعَةِ كَفَّارَاتٌ لِّمَا بَيْنَهُنَّ مَالَمْ تُغْشَ الْكَبَائِرُ.

ص۱۵ عارضۃ الاحوذی جزء الثانی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلّم نے فرمایا: پانچوں نمازیں اور جمعہ سے لیکر جمعہ تک، ان کے درمیانی وقت (صغیرہ گناہوں) کے لیے کفارہ ہیں، جب تک کہ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب نہ کیا جائے۔

وضاحت

فضائل نماز کے موضوع پر یہ بہت ہی اہم اور واضح حدیث ہے کہ نماز گناہوں سے بچاتی ہے۔

اِنَّ الصَّلوٰةَ تَنْهىٰ عَنِ الْفَحْشَآءِ وَ الْمُنْكَرِ (الآیۃ)

بشرطیکہ آدمی نماز کے ارکان، فرائض، واجبات، سُنن و مستحبات کا لحاظ رکھے۔ اسی طرح دو نمازوں کے درمیان سرزد ہونے والے صغیرہ گناہ بھی اللہ تعالیٰ معاف فرمادیتا ہے۔ بشرطیکہ آدمی کبیرہ گناہوں سے بچے اور اخلاص سے نماز ادا کرے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے اَوَّلُ مَا يُحَاسَبُ بِهِ الْعَبْدُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مِنْ عَمَلِهٖ صَلوٰتُهٗ فَاِنْ صَلُحَتْ فَقَدْ اَفْلَحَ وَ اَنْجَحَ وَ اِنْ فَسَدَتْ فَقَدْ خَابَ وَ خَسِرَ ص۲۰۶ عارضۃ الاحوذی جزء الثانی۔ یعنی سب سے پہلے جس عمل کا محاسبہ ہوگا، وہ نماز ہے۔ پس اگر وہ درست رہا تو وہ آدمی کامیاب اور نجات والا ہوگیا اور اگر اس میں خرابی نکلی (کہ نماز پڑھی ہی نہیں یا درست طریقہ پر ادا نہیں کی) تو وہ آدمی خسارہ اور نقصان والا ہوگا۔