[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۶

ثواب حج

 

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ حَجَّ فَلَمْ يَرْفُثْ وَ لَمْ يَفْسُقْ غُفِرَ لَهٗ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهٖ.

ص۲۶ ترمذی شریف جزء الرابع

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، جس نے حج کیا، پس (دوران حج) فحش گوئی سے بچا اور گناہ کا کوئی کام نہ کیا تو اس سے پہلے والے اس کے گناہ بخش دیئے جاتے ہیں۔

ارشاد خداوندی ہے

وَ لِلهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ اِلَيْهِ سَبِيْلًا وَمَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنِ. ۹۷ آل عمران

حج ارکان اسلام میں سے ایک اہم رکن ہے اور حج بیت اللہ ہر مؤمن مرد و عورت پر لازم ہے بشرطیکہ وہ بیت اللہ تک پہنچنے کی قوت و استطاعت رکھتا ہو اور اس کے پاس ضروریات زندگی سے فاضل مال و دولت اس قدر ہو کہ آنے جانے اور وہاں کے قیام و قربانی و دیگر متوقع اخراجات برداشت کرسکتا ہو، اور واپسی تک اپنے اہل و عیال کے اخراجات کا بھی انتظام کرسکتا ہو، جن کا نان و نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے۔ نیز وہاں آنے جانے کے لیے کسی قسم کی رکاوٹ (مثلًا شرعی عذر یا راستہ پُرامن نہ ہونا) بھی درپیش نہ ہو۔ اگر عورت پر حج فرض ہے تو وہ اس وقت حج پر جانے کے لیے قادر سمجھی جائے گی جب اس کے ساتھ کوئی محرم شریک سفر ہو، خواہ وہ اپنا خرچہ خود ادا کررہا ہو یا عورت اس کے اخراجات برداشت کرے۔ حدیث شریف میں ہے اَلْحَجُّ الْمَبْرُوْرُ لَيْسَ لَهٗ جَزَاءٌ اِلَّا الْجَنَّةُ (رواہ مالک، الترغیب والترہیب ص۱۶۳ جزء ثانی) مقبول حج کا بدلہ نہیں مگر جنت۔

نیز فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اِنَّ الْحَجَّ يَهْدِمُ مَا كَانَ قَبْلَهٗ حج معاف کرادیتا ہے جو اس سے پہلے (حاجی) کرچکا۔ یعنی اس کے گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں۔ یاد رہے کہ حج سے حقوق اللہ معاف کردیئے جاتے ہیں، جب کہ حقوق العباد حق دار کو حق دینے یا اس کے معاف کردینے سے معاف ہوتے ہیں، ورنہ قیامت کے دن اپنے نیک اعمال دیکر یا مستحق کے گناہوں کا بوجھ اٹھاکر حقوق العباد ادا کرنے ہوں گے۔ ہاں یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے خود ہی مستحق کو دے کر مجرم کو معافی دلائے۔ تاہم اس امید پر اوروں کے حقوق اپنے سَر لینا بری بات ہے۔

فرمان الٰہی ہے وَ مَنْ كَفَرَ فَاِنَّ اللهَ غَنِيٌّ عَنِ الْعَالَمِيْنَ۔ یعنی جو شخص حج کا منکر ہے تو اللہ بے نیاز ہے تمام جہان والوں سے۔ لہٰذا جو حج کا منکر ہے، اسے فرض نہیں سمجھتا وہ کافر ہے اور دائرہ اسلام سے خارج ہے۔ اور جو حج کو فرض جانتے ہوئے قدرت کے باوجود حج ادا نہیں کرتا، عملی انکار کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہے، اللہ تعالیٰ محفوظ رکھے۔