[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۷

روزۂ رمضان

 

عَنْ اَبِيْ هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلِّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اللهُ عَزَّ وَ جَلَّ كُلُّ عَمَلِ بْنِ اٰدَمَ لَهٗ اِلَّا الصَّوْمَ فَاِنَّهٗ لِيْ وَ اَنَا اَجْزِيْ بِهٖ وَ الصِّيَامُ جُنَّةٌ فَاِذَا كَانَ يَوْمُ صَوْمِ اَحَدِكُمْ فَلَا يَرْفُثْ وَلَا يَضْخَبْ فَاِنْ سَابَّهٗ اَحَدٌ اَوْ قَاتَلَهَ فَلْيَقُلْ اِنِّيْ صَائِمٌ وَ الَّذِيْ نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهٖ لَخَلُوْفُ فَمِ الصَّائِمِ اَطْيَبُ عِنْدَ اللهِ مِنْ رِيْحِ الْمِسْكِ. لِلصَّائِمِ فَرْحَتَانِ يَفْرَحُهُمَا، اِذَا اَفْطَرَ فَرِحَ بِفِطْرِهٖ وَ اِذَا لَقِيَ رَبَّهٗ فَرِحَ بِصَوْمِهٖ

رواہ البخاری ص ۸۰ الترغیب و الترہیب جزء ثانی

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے  اولادِ آدم علیہ السلام کا ہر عمل اس کے لیے ہے ماسوا روزہ کے کہ وہ میرے لیے ہی ہے

(اگرچہ تمام عبادات اللہ تعالیٰ کے لیے ہوتی ہیں، لیکن دوسری عبادتوں میں عزت، شہرت، ریا وغیرہ کی صورت میں بندہ کو دنیا میں اس کا فائدہ پہنچتا ہے، لیکن روزہ دیکھنے دکھانے کی چیز نہیں ہے، بس اللہ تعالیٰ ہی اس کے روزہ اور اخلاص سے باخبر ہے۔ اس لیے روزہ کو اپنی طرف خصوصی نسبت عطا فرمائی، نیز کل قیامت کے دن بندہ کے دوسرے اعمال چھین کر اہلِ حقوق کو دیئے جائیں گے لیکن روزہ کا ثواب ہر قیمت پر بندہ کو ملے گا وغیرہ)

اور روزہ ڈھال ہے کہ روزہ دار گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، نیز آخرت میں عذابِ الٰہی سے بچاؤ کا باعث بنے گا۔ سو جب تم میں سے کسی کے روزے کا دن ہو تو بری بات نہ کہے اور نہ شور مچائے

(شریعت میں تو کچھ نہ کھانے پینے کا نام روزہ ہے لیکن طریقت میں دل، دماغ، زبان، ہاتھ پاؤں تمام اعضاء کو ممنوعہ باتوں سے روکے رکھنے کا نام روزہ ہے، بری بات زبان سے نہ کہنا اور ہر شور شرابہ سے باز رہنے میں اسی جانب اشارہ ہے)

اگر اسے کوئی گالی گلوچ دے یا لڑے تو کہدے کہ میں روزہ دار ہوں

(میں تم سے لڑنے کو تیار نہیں، تمہیں بھی روزہ دار سے لڑنا زیب نہیں دیتا۔ اس سے یہ معلوم ہوا کہ ضرورت کے وقت اپنی کسی نیکی کا اظہار کرنا جائز ہے، بشرطیکہ فخر و ریا مقصود نہ ہو)

اور قسم ہے اس ذات کی جس کے دستِ قدرت میں حضرت محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ روزہ دار کے منہ کی بو اللہ کے یہاں مشک کی خوشبو سے بہتر ہے۔

(معدہ خالی ہونے کی وجہ سے منہ میں جو بُو پیدا ہوتی ہے، وہ کھانا کھائے بغیر ختم نہیں ہوتی، لہٰذا روزہ میں مسواک کرنے کی اجازت ہے۔ یہاں پر مرقات میں حضرت ملا علی قاری علیہ الرحمۃ نے لکھا ہے کہ یہ جملہ ایسا ہے، جیسے ماں کہے کہ مجھے اپنے بچے کا پسینہ کیوڑے گلاب سے پیارا ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ وہ پسینہ دھویا بھی نہ جائے (مرآۃ المناجیح) البتہ منجن یا ٹوتھ پیسٹ وغیرہ روزہ میں استعمال کرنا مکروہ ہے۔ اور اگر اس کے اجزاء حلق میں چلے گئے تو روزہ ٹوٹ جاتا ہے۔ امداد الفتاویٰ و دیگر کتب فقہ)