[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۸

فضائل خاتم النبیین

صلی اللہ علیہ وسلم

 

عَنْ اَبِيْ سَعِيْدٍ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَنَا سَيِّدُ وُلْدِ اٰدَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا فَخْرَ وَبِيَدِيْ لِوَاءُ الْحَمْدِ وَلَا فَخْرَ وَمَا مِنْ نَبِيٍّ يَّوْمَئِذٍ اٰدَمُ فَمِنْ سِوَاهُ اِلَّا تَحْتَ لِوَآئِيْ وَ اَنَا اَوَّلُ مَنْ تَنْشَقَّ عَنْهُ الْاَرْضُ وَلَا فَخْرَ

رواہ الترمذی

حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں قیامت کے دن اولاد آدم علیہ السلام کا سردار ہوں (یہ حقیقت ہے لیکن میں یہ بات) فخریہ نہیں کہتا، اور میرے ہاتھ میں حمد کا جھنڈا ہوگا (یہ بھی حقیقت ہے لیکن میں یہ بات) فخریہ نہیں کہتا اور اس دن کوئی نبی آدم علیہ السلام اور ان کے سوا ایسا نہ ہوگا جو میرے جھنڈے تلے نہ ہو اور میں وہ پہلا شخص ہوں جن سے زمین کھلے گی (کہ سب سے پہلے میں قبر انور سے باہر آؤں گا، گو یہ بات بھی حقیقت ہے لیکن میں یہ) فخریہ نہیں کہتا۔

نبی کریم رؤف و رحیم صلّی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و مناقب، کمالات و معجزات اس قدر زیادہ ہیں کہ

لَا یُمکِنُ الثَنَاءَ کَمَا کَانَ حَقُّہٌ    بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر

(پوری طرح آپ کی مدح و ثنا بیان کرنا ممکن نہیں۔ بس یہی کہہ کر اپنا مضمون ختم کرتا ہوں کہ اللہ تبارک و تعالیٰ کے بعد آپ ہی سب سے برتر و بزرگ تر ہیں)

تاہم ان گذشتہ صدیوں میں نامعلوم کتنے خوش نصیبوں نے اپنی اپنی بساط کے مطابق آقا و مولیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و کمالات کے موضوع پر دسیوں ہزاروں نہیں، لاکھوں کتابیں دنیا بھر کی زبانوں میں تحریر کیں اور ساتھ ہی یہ بھی تحریر کیا کہ ۔۔۔ حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا۔

(یہ عاجز راقم سطور تو ویسے بھی علم و عمل سے تہی دست اور فصاحت و بلاغت سے نابلد ہے تاہم ان عاشقوں کی قطار بلکہ ان کے قدموں میں جگہ بنانے کی امید کے ساتھ اپنے آقا و مولیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے فضائل و خصائل حمیدہ ذکر کرنے کی سعادت حاصل کرتا ہے۔)

آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت آدم علیہ السلام سے لیکر حضرت عبداللہ والد گرامی آقائے دو عالم تک یکے بعد دیگرے بہترین معززین صالحین خانوادوں سے منتقل ہوتے ہوئے آئے (حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)

آپ سید المرسلین صلّی اللہ علیہ وسلّم اس وقت بھی نبی تھے جب حضرت آدم علیہ السلام ابھی روح و جسم کے درمیان تھے (حدیث ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)

شبِ معراج میں تو جسم اقدس کے ساتھ معراج کیا اور اپنے رب کا روبرو دیدار کیا جب کہ روحانی معراج سے بارہا سرفراز ہوئے۔

انبیاء کرام علیہم السلام سمیت آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم تمام انسانوں کے سردار ہیں۔ اس دنیا کے اختتام پر جب تمام مخلوقات کو میدان حشر کے لیے اُٹھایا جائے گاتو سب سے پہلے آپ علیہ السلام ہی قبرِ مبارک سے باہر تشریف لائیں گے اور آپ کے ساتھ حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما ہوں گے۔ سب سے پہلے بارگاہِ الٰہی میں آپ ہی مجرموں کی شفاعت کرکے ان کی مغفرت کرائیں گے (آپ کی شفاعت قبول کی جائے گی) بعد میں دیگر انبیاء کرام، اولیاء کبار، چھوٹے بچے، کعبہ معظّمہ اور رمضان المبارک بھی شفاعت کریں گے اور ان کی شفاعت بھی قبول ہوگی۔ بروز قیامت دیگر انبیاء کرام علیہم السلام کی نسبت آپ کے اُمتی سب سے زیادہ ہوں گے۔ نیز سب سے پہلے جنت کا دروازہ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم کھٹکھٹائیں گے اور جنت کا دروازہ کھولا جائے گا۔ جیسا کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کی روایت ہے۔ فرمایا میں پہلا وہ شخص ہوں جو جنت کی زنجیر ہلائے گا، تب اللہ اسے کھولے گا، پھر مجھے اس میں داخل کرے گا اور میرے ساتھ مؤمن فقراء ہوں گے۔ (یہ بات میں) فخریہ نہیں کہتا۔ اور میں اگلے اور پچھلے سب لوگوں میں اللہ کے حضور زیادہ عزت والا ہوں (لیکن یہ بات بھی) فخریہ نہیں کہتا۔

سابق انبیاء کرام علیہم السلام مخصوص قوموں کے لئے بھیجے گئے لیکن حضرت محمد مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کو اللہ پاک نے تمام انسانوں کے لئے (قیامت تک کے لئے نبی بناکر) مبعوث فرمایا (حدیث جابر رضی اللہ عنہ)

فرمایا: میں اللہ تعالیٰ کے نزدیک خاتم النبیین لکھا ہوا تھا جب حضرت آدم علیہ السلام اپنی خمیر میں لوٹ رہے تھے (لہٰذا آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلّم کے بعد جو اپنے آپ کو نبی کہلائے یا کسی دوسرے کو نبی کہے خواہ اصلی نبی یا ظلی بروزی کسی قسم کی بھی نبوت کا عقیدہ رکھے کافر ہے)

اور میں قیامت کے دن امام النببین ہوں گا۔ میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعا ہوں، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی بشارت ہوں اور اپنی والدہ (سیدہ آمنہ رضی اللہ عنہا) کا وہ نظارہ ہوں جو انہوں نے میری ولادت کے وقت دیکھا تھا کہ ان کے سامنے ایک نور ظاہر ہوا جس سے ان کے لئے ملک شام کے محل چمک اُٹھے (کہ مکہ معظمہ سے ان کو دیکھ لیا)۔

تورات شریف میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کا اسم شریف المتوکل یعنی اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کرنے والا بیان کیا گیا ہے۔ نیز آپ کو حِرزًا للاُمیّین یعنی ان پڑھوں کے محافظ اور جائے پناہ فرمایا گیا۔

نیز توریت شریف میں آپ صلّی اللہ علیہ وسلّم کے درج ذیل اوصاف مذکور ہیں:

لَيْسَ بِشَظٍّ وَّلَا غَلِيْظٍ وَّلَا سَخَابٍ فِي الاَسْوَاقِ وَلَا يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ وَلٰكِنْ يَعْفُوْ وَ يَغْفِرُ

آپ صلّی اللہ علیہ وسلم نہ سخت دل ہیں، نہ زبان سخت (بلکہ وہ تو گالیاں دینے والوں کو دعائیں دینے والے اور اپنے پیاروں کے قاتلوں کو معارف کرنے والے ہیں) آپ بازاروں میں شور کرنے والے نہیں (بلکہ اگر بازار جاتے ہیں پیار و محبت اور شیریں گفتار سے لوگوں سے ملتے اور دین کی تبلیغ کرتے ہیں) آپ برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ معاف کرتے اور بخش دیتے ہیں۔

سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو عبائیں دیں
سلام اس پر کہ جس نے گالیاں سن کر دعائیں دیں

آج اٹھارہ ربیع الاول شریف ۱۴۲۷ھ پیر کا دن ہے۔ ثنا خوانانِ مصطفیٰ علیہ السّلام کی طویل فہرست میں نام لکھوانے کے لئے آپ کے بے انتہا کمالات میں سے چند اوصاف کا ذکر کیا ہے، اس امید کہ ساتھ کہ میرا حشر بھی عاشقانِ مصطفیٰ میں ہو، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس راہ میں کھپادیں۔

مَا اَنْ مَدَحْتُ مُحَمَّدًا بِمَقَالَتِيْ
لٰكِنْ مَدَحْتُ مَقَالَتِيْ بِمُحَمَّدٍ

اللہ یا محمد ہووے زباں پہ جاری
جب یہ روح میری چرخِ کُہن سے نکلے