[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۹

فضائل سیدنا صدیق اکبر

رضی اللہ عنہ

عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كُنَّا فِيْ زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نَعْدِلُ بِاَبِيْ بَكْرٍ اَحَدًا ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ ثُمَّ نَتْرُكُ اَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلِّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ

رواہ البخاری

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، فرمایا ہم (صحابہ کرام) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے برابر کسی کو نہ سمجھتے تھے، پھر عمر، پھر عثمان رضی اللہ عنہما کو افضل مانتے تھے، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو رہنے دیتے تھے، ان میں کسی پر کسی کی بزرگی بیان نہ کرتے تھے۔

ابوداؤد شریف کی روایت ہے

كُنَّا نَقُوْلُ وَ رَسُوْلُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَيٌّ اَفْضَلُ اُمَّةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَهٗ اَبُوْبَكْرٍ ثُمَّ عُمَرُ ثُمَّ عُثْمَانُ رَضِيَ اللهُ عَنْهُمْ

حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے محبوب صحابی ہیں، جن کے بارے میں خود آقا و مولیٰ علیہ السلام نے ارشاد فرمایا

سارے انسانوں میں مجھ پر زیادہ احسان کرنے والے اپنی صحبت، رفاقت اور اپنے مال میں، ابوبکر ہیں کہ کسی موقعہ پر میرا ساتھ نہیں چھوڑا بلکہ اپنی جان، اولاد، مال اور وطن سب کچھ مجھ پر نثار کیا۔

(مزید فرمایا: اگر میں اپنے رب کے سوا کسی کو دوست بناتا تو ابوبکر کو بناتا۔ روایت حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ)

فرمایا:

مَا لِاَحَدٍ عِنْدَنَا يَدٌ اِلَّا وَقَدْ كَافَيْنَاهُ مَا خَلَا اَبَابَكْرٍ فَاِنَّ لَهٗ عِنْدَنَا يَدًا يُكَافِئُهُ اللهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ.

ہم پر کسی کا احسان نہیں مگر ہم نے اس کو بدلہ دے دیا، سوائے ابوبکر کے کہ ان کا ہم پر احسان ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کا بدلہ دے گا۔ (روایت حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ)

حضرت محمد بن حنفیہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں نے اپنے والد گرامی یعنی حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے دریافت کیا: اَيُّ النَّاسِ خَيْرٌ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ اَبُوْبَكْرٍ قُلْتُ ثُمَّ مَنْ قَالَ عُمَرُ (نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے بعد لوگوں میں کون افضل ہے؟ فرمایا ابوبکر رضی اللہ عنہ، میں نے کہا پھر کون؟ فرمایا عمر رضی اللہ عنہ)

حضرت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ آپ مردوں میں سب سے پہلے اسلام لائے اور پھر آخر دم تک پوری قوت کے ساتھ نہ صرف دین اسلام کی آبیاری کی، بلکہ حضور سرور کائنات فخر موجودات صلّی اللہ علیہ وسلم کے عظیم مشن کو آگے بڑھانے میں انتہائی فعال اور مجاہدانہ کردار ادا کیا۔

صدّیق اکبر بعد از پیمبر
بزرگ توئی قصہ مختصر