[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۱۰

فضائل سیدنا عمر بن الخطاب

رضی اللہ عنہ

 

عَنْ عُقْبَۃَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَوْ کَانَ بَعْدِیْ نَبِیٌّ لَکَانَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ

رواہ الترمذی

حضرت عُقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرماتے ہیں، فرمایا نبی صلّی اللہ علیہ وسلم نے، اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو عمر بن خطابؓ ہوتے۔

چونکہ حضرت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النّبیین ہیں اور آپ کے بعد کسی نبی کا آنا ممکن ہی نہیں، اس لیے حضرت عمر رضی اللہ عنہ باوجودیکہ اُن کے دل میں رب کی طرف سے درست الہام اور القاء بہت ہوتا ہے اور قرآن مجید کی بہت سی آیات آپ کی رائے کے مطابق نازل ہوئیں، پھر بھی آپ نبی نہیں ہیں، بلکہ غلامِ نبی ہیں اور خلیفۃ الرسول صلی اللہ علیہ وسلم اور امتِ محمّدیہ علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسّلام میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بعد سب سے افضل ہیں۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مقامِ ابراہیم کو جائے نماز بنانے کی تجویز بارگاہِ رسالت مآب صلّی اللہ علیہ وسلّم میں پیش کی تو اللہ تعالیٰ نے وَاتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرَاہِیْمَ مُصَلّیٰ نازل فرماکر قیامت تک کے لئے اس جگہ کو جائے نماز بنادیا۔ ابتداء اسلام میں پردہ کا حکم نہیں آیا تھا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے حالات کے پیشِ نظر پردہ کی رائے دی تو اللہ تعالیٰ نے پردہ کی آیت نازل فرمائی۔ اسی طرح بدر کے قیدیوں کا معاملہ اور منافقوں کا جنازہ نہ پڑھنے کے بارے میں آیات، کل پندرہ آیاتِ مبارکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی رائے کے مطابق نازل ہوئیں۔

ایک موقعہ پر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنِّیْ لَاَنْظُرُ اِلیٰ شَیَاطِیْنِ الْجِنِّ وَ الْاِنْسِ قَدْ فَرُّوْا مِنْ عُمَرَ۔ میں جنوں اور انسانوں کے شیطانوں کو دیکھ رہا ہوں کہ وہ عمر رضی اللہ عنہ کے آنے پر بھاگ گئے۔

کرامات حضرت عمر رضی اللہ عنہ

حضرت ساریہ رضی اللہ عنہ مقامِ نہاوند میں مصروفِ جہاد تھے کہ دشمنوں نے پہاڑ کے پیچھے سے چھپ کر حملہ کرنا چاہا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مدینہ منورہ سے ان کو دیکھ کر صورتحال سے ساریہ رضی اللہ عنہ کو مطلع کیا اور یَا ساریۃُ الجبل فرمایا اور آپ کی یہ آواز نہاوند میں پہنچی، جس کی بدولت لشکر اسلام شکست سے محفوظ رہا۔

فتح مصر کے بعد جب دریائے نیل خشک ہوگیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے دریائے نیل کے نام خط لکھ کر دریا میں ڈالنے کا حکم دیا تو دریائے نیل بہنے لگا اور پھر کبھی خشک نہ ہوا۔

خلافتِ فاروقی میں جب حضرت ابومُسلم رضی اللہ عنہ کو مدعی نبوّت اسود عنسی نے نبی تسلیم نہ کرنے پر آگ میں ڈلوایا تو بحکمِ خداوندی آگ ان پر ٹھنڈی ہوگئی اور بسلامت مدینہ منورہ پہنچے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کو سینے سے لگاکر فرمایا: اللہ کا شکر ہے کہ اس نے تم کو آگ سے بچالیا اور سنّتِ ابراہیم علیہ السلام نصیب کی۔ حالانکہ اس سے پہلے کسی نے یہ خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو نہیں بتائی تھی۔