[ فہرست ]

تحفۂ حبیب

 

حدیث نمبر ۱۲

فضائل سیدنا عثمان ذوالنورین

رضی اللہ عنہ

 

عَنْ طَلْحَۃَ بْنِ عُبَیْدِ اللہِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِکُلِّ نَبِیٍّ رَفِیْقٌ وَ رَفِیْقِیْ یَعْنِیْ فِیْ الْجَنَّۃِ عُثْمَانُ

رواہ الترمذی

حضرت طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ فرمایا رسول اکرم علیہ الصّلوٰۃ والسّلام نے کہ ہر ایک نبی کا کوئی ساتھی ہوتا ہے اور میرا ساتھی یعنی جنت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ہے۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے شرم و حیا کے بارے میں رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔

جیش عُسرۃ یعنی غزوۂ تبوک کے موقعہ پر جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے مجاہدین کے لیے بہت سارے اونٹ، پالان، کمبل اور دینار دینے کا اعلان کیا تو اس وقت رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے اعلان فرمایا مَا عَلیٰ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ہٰذِہٖ، مَا عَلیٰ عُثْمَانَ مَا عَمِلَ بَعْدَ ہٰذِہٖ۔

آج کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں۔ اس کے بعد عثمان پر کوئی گناہ نہیں وہ جو بھی کریں۔

اس حدیث شریف کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اب عثمان کے دل میں گناہ کا خیال بھی پیدا نہ ہوگا۔ بلاشبہ یہ حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کی صحبتِ بابرکت کا اثر اور نظرِ کیمیائے سعادت کا فیض اور حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے خلوص کا نتیجہ ہے۔

خصائصِ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ

رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیاں سیّدہ رقیہ و سیدہ کلثوم رضی اللہ عنہما یکے بعد دیگرے آپ کے عقد میں آئیں۔ اسی بنا پر آپ کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ (یعنی دو نور والے)

رضائے الٰہی کے لیے دو بار ہجرت کرنے کی سعادت حاصل کی۔ پہلی بار مکہ مکرمہ سے حبشہ ہجرت کی، دوسری بار مدینہ منورہ۔

حدیبیہ کے مقام پر رہ کر جب سید المرسلین صلّی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو اپنا نمائندہ بناکر مکہ مکرمہ بھیجا اور آپ کی شہادت کی افواہ اڑی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں موجود صحابہ کرام سے بیعت لی اور اس موقعہ پر اپنے ہاتھ کی طرف اشارہ کرکے ہٰذِہٖ یَدُ عُثْمَانَ (یہ عثمان کا ہاتھ ہے) فرماکر بیعت میں شامل فرمایا۔

ہجرت مدینہ منورہ کے موقعہ پر آپ نے مسجدِ نبوی شریف کے لیے زمین خرید کر دی اور بئر رومہ نامی میٹھے پانی کا کنواں خرید کر وقف کردیا، جو آج تک موجود ہے۔ الحمدللہ مدینہ منورہ کی حاضری کے وقت اس عاجز نے اس کی زیارت کی اور پانی پیا۔

قرآن مجید کے جمع و ترتیب دہی میں سب سے زیادہ خدمات انجام دیں، اسی بنا پر آپ جو جامع القرآن بھی کہا جاتا ہے۔