فہرست

اسباق طریقہ عالیہ نقشبندیہ


اسباق طریقہ عالیہ نقشبندیہ

 

شیخ المشائخ حضرت خواجہ احمد سعید قدس سرہ اربع انہار میں قیوم ربانی حضرت مجدد الف ثانی نوّر اللہ مرقدہ کے حوالہ سے تحریر فرماتے ہیں۔

لطائف عشرہ

انسان دس لطائف سے مرکب ہے جن میں سے پانچ کا تعلق عالم امر سے ہے اور پانچ کا تعلق عالمِ خلق سے ہے۔

لطائف عالم امر یہ ہیں۔ ۱۔ قلب۲۔ روح ۳۔ سر ۴۔ خفی ۵۔ اخفیٰ

لطائف عالمِ خلق یہ ہیں ۱۔ لطیفۂ نفس اور لطائف عناصر اربعہ یعنی ۲۔ آگ ۳۔ پانی ۴۔ مٹی ۵۔ ہوا۔

لطائف عالم امر کے اصول (مرکز) عرش عظیم پر ہیں اور لامکانیت سے تعلق رکھتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرتِ کاملہ سے ان جواہر مجردہ کو انسانی جسم کی چند جگہوں پر امانت رکھا ہے۔

دنیوی تعلقات اور نفسانی خواہشات کی وجہ سے یہ لطائف اپنے اصول کو بھول جاتے ہیں، یہاں تک کہ شیخ کامل و مکمل کی توجہ سے یہ اپنے اصول سے آگاہ و خبردار ہوجاتے ہیں اور انکی طرف میلان کرتے ہیں۔ اس وقت کشش الٰہی اور قرب ظاہر ہوتا ہے یہاں تک کہ وہ اپنی اصل تک پہنچ جاتے ہیں۔ پھر اصل کی اصل تک، یہاں تک کہ اس خالص ذات یعنی اللہ تبارک و تعالیٰ تک پہنچ جاتے ہیں جو صفات و حالات سے پاک و مبرّا ہے۔ اس وقت ان سالکین کو کامل فنائیت اور اکمل بقا حاصل ہوجاتی ہے۔

اصلاح لطائف

مشائخ سلسلہ عالیہ نقشبندیہ قدس اللہ اسرارہم کے یہاں باطن کی صفائی کے لئے سب سے پہلے لطائف عالمِ امر کی اصلاح کا معمول ہے اور اس کے لئے ان حضرات نے تین طریقے مقرر فرمائے ہیں:

  • طریق اول: ذکر
  • طریقِ دوم: مراقبہ
  • طریقِ سوم: رابطہ شیخ

سالکِ طریقت جس قدر ان امور کا زیادہ اہتمام کریگا اسی قدر سلوکِ طریقت میں اسے ترقی حاصل ہوگی اور جس قدر ان امور میں کوتاہی کریگا اسی قدر باطنی راستہ طے کرنے میں اسے تاخیر ہوگی۔

طریق اول: ذکر

ذکر کے دو قسم ہیں۔ اول ذکر اسم ذات۔ دوم ذکر نفی و اثبات۔ ذکر اسم ذات کے اسباق یہ ہیں:

سبق اول: ذکر لطیفۂ قلب

وضاحت: دل انسان کے جسم میں بائیں پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے، (اس لئے ہمارے مشائخ تلقین ذکر کے وقت اس مقام پر انگشت شہادت رکھ کر تین مرتبہ اسم ذات اللہ، اللہ، اللہ، کہتے ہوئے سالک کے دل پر خصوصی توجہ فرماتے ہیں) ذکر کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ سالک اپنے دل کو دنیوی خیالات و فکرات سے خالی کرکے ہر وقت یہ خیال کرے کہ دل اسم مبارک اللہ، اللہ کہہ رہا ہے۔ زبان سے کچھ کہنے کی ضرورت نہیں بلکہ زبان تالو سے چسپاں رہے اور سانس حسب معمول آتا جاتا رہے، بس اس طرح اپنے خالق و مالک کی طرف دل کا توجہ ہونا چاہئے، جس طرح ایک پیاسا آدمی زبان سے تو پانی پانی نہیں کہتا لیکن اسکا دل پانی کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔
بیشک دنیا کے کام کاج کرتے رہیں اس سے کوئی منع نہیں، لیکن دست بکار و دل بیار کے مصداق دل کا توجہ اور خیال ہر وقت اپنے خالق و مالک کی طرف رہے۔ یوں سمجھے کہ فیضان الٰہی کا نور حضور نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کے سینہ اطہر سے ہوتا ہوا پیرومرشدکے سینہ سے میرے دل میں آرہا ہے اورگناہوں کے زنگ و کدورات ذکر کی برکت سے دور ہورہے ہیں۔ اگرادھر اُدھر کے خیالات دل میں آئیں تو ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ انشاء اللہ تھوڑا ہی عرصہ اس طریقہ پر محنت و توجہ کرنے سے دل ذاکر ہوجائیگا اور جب دل ذاکر ہوگیا تو سوتے جاگتے، کھاتے پیتے ہر وقت دل ذکر اللہ، اللہ، اللہ، کرتا رہے گا۔

فائدہ: لطیفۂ قلب جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ سالک کا دل نفسانی خواہشات کی بجائے محبوب حقیقی کی طرف متوجہ ہوجائے، غفلت دور ہو اور شریعت مطہرہ کے مطابق عمل کرنیکا شوق پیدا ہو۔ ذکر جاری ہونے کے لئے یہ ضروری نہیں کہ اسکا دل حرکت کرنے لگے یا اسے کشف ہونے لگے، بلکہ ان چیزوں کے درپے ہونا سالک کے لئے مفید نہیں۔ سالک کا اول و آخر مقصد رضائے الٰہی ہونا چاہئے نہ کہ کشف و کیفیات کا حصول۔

جب سالک کا لطیفہ قلب جاری ہوجاتا ہے تو پیرومرشد مذکورہ طریقہ پر لطیفۂ روح کی تلقین فرماتے ہیں۔

سبق دوم: ذکر لطیفۂ روح

لطیفۂ روح کا مقام داہنے پستان کے نیچے دو انگشت کے فاصلہ پر قدرے پہلو کی جانب واقع ہے۔ سالک کو چاہئے کہ اس مقام پر بھی اسمِ ذات اللہ، اللہ کا توجہ و خیال کرے۔ لطیفۂ روح جاری ہونے سے باطن کی مزید صفائی ہوتی ہے۔

فائدہ: لطیفہ روح جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ طبیعت میں صبر کی وصف پیدا ہوتی ہے اور غصہ پر قابو کرنا آسان ہوجاتا ہے۔

سبق سوم: ذکر لطیفۂ سرّ

لطیفۂ سر کی جگہ بائیں پستان کے برابر دو انگشت سینہ کی جانب مائل ہے۔ اس لطیفہ میں بھی اسم ذات اللہ کا خیال رکھنے سے ذکر جاری ہوجاتا ہے اور مزید باطنی ترقی حاصل ہوتی ہے۔

فائدہ: لطیفہ سر جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ ذکر کے وقت عجیب و غریب کیفیات کا ظہور ہوتا ہے، حرص و ہوس میں کمی اور نیکی کے کاموں میں خرچ کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔

سبق چہارم: ذکر لطیفۂ خفی

لطیفۂ خفی کا مقام داہنے پستان کے برابر دو انگشت وسط سینہ کی جانب ہے۔ اس لطیفہ کے ذکر کے وقت ”یا لَطِیْفُ اَدْرِکْنِیْ بِلُطْفِکَ الْخَفِیِّ“ پڑھنا مفید ہے۔

فائدہ: اس لطیفہ کے جاری ہونے کی علامت یہ ہے کہ صفات رذیلہ حسد و بخل سے بیزاری حاصل ہوجاتی ہے۔

سبق پنجم: ذکر لطیفہ اخفی

اس لطیفہ کا مقام وسط سینہ ہے۔ سابقہ لطائف کی طرح اس لطیفہ میں بھی ذکر کا تصور و خیال کرنا چاہئے۔

فائدہ: ذکر لطیفہ اخفیٰ کرنے سے فخر و تکبر وغیرہ زائل ہوجاتے ہیں اور یہی لطیفۂ اخفیٰ جاری ہونے کی علامت ہے۔ نیز سالک کو چاہئے کہ لطائف میں ترقی کے ساتھ ساتھ پہلے والے لطائف پر بھی علاحدہ علاحدہ ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ تمام لطائف جاری ہوجائیں۔

سبق ششم: ذکر لطیفہ نفس

لطیفہ نفس کی جگہ وسط پیشانی ہے۔ اس لطیفہ میں بھی سابقہ لطائف کی طرح ذکر کا خیال ہی کرنا ہے۔
فائدہ: لطیفہ نفس کی اصلاح کی علامت یہ ہے کہ سالک ذکر کی لذت میں اس قدر محو ہوجاتا ہے کہ نفس کی رعونت و سرکشی بالکل ختم ہوجاتی ہے۔

سبق ہفتم: ذکر لطیفہ قالبیہ

اس لطیفہ کا دوسرا نام سلطان الاذکار ہے۔ اسکا مقام وسط سر ہے، اس لئے اسکی تعلیم دیتے وقت مشائخ وسط سر یعنی دماغ پر انگلی رکھ کر اللہ، اللہ کہتے ہوئے توجہ دیتے ہیں، جس سے بفضلہ تعالی تمام بدن ذاکر ہوجاتا ہے اور جسم کے روئیں روئیں سے ذکر جاری ہوجاتا ہے۔

فائدہ: لطیفہ قالبیہ جاری ہونے کی ظاہری علامت یہ ہے کہ جسم کا گوشت پھڑکنے لگتا ہے، کبھی بازو کبھی ٹانگ اور کبھی کسی اور حصہ جسم میں حرکت محسوس ہوتی ہے۔ بعض اوقات تو پورا جسم حرکت کرتا محسوس ہوتا ہے۔

سبق ہشتم: ذکر نفی و اثبات

توجہ و خیال کی زبان سے لَاأِلٰہَ اِلآَااللّٰہُ کے ذکر کو نفی و اثبات کہتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ سالک پہلے اپنے باطن کو ہر قسم کے خیالات ماسویٰ اللہ سے پاک و صاف کرے، اس کے بعد اپنے سانس کو ناف کے نیچے روکے اور محض خیال کی زبان سے کلمہ ”لا“ کو ناف سے لیکر اپنے دماغ تک لے جائے، پھر لفظ ”اِلٰہَ“ کو دماغ سے دائیں کندھے کی طرف نیچے لے آئے اور کلمہ ”اِلاَّ اللہُ“ کو پانچوں لطائف عالم امر میں سے گذارکر قوت خیال سے دل پر اس قدر ضرب لگائے کہ ذکر کا اثر تمام لطائف میں پہنچ جائے۔ اس طرح ایک ہی سانس میں چند مرتبہ ذکرکرنے کے بعد سانس چھوڑتے ہوئے خیال سے ”مُحَمَّدُ رَّسُوْلُ اللّٰہِ“ کہے۔ ذکر نفی و اثبات کے وقت کلمہ طیبہ کی معنیٰ کہ سوائے ذات پاک کے کوئی اور مقصود و معبود نہیں، کا خیال رکھنا اس سبق کے لئے شرط ہے۔ کلمہ ”لا“ ادا کرتے وقت اپنی ذات اور تمام موجودات کی نفی کرے اور ”اِلَّا اللّٰہُ“ کہتے وقت ذات حق سبحانہ و تعالیٰ کا اثبات کرے۔

فائدہ: ذکر نفی و اثبات میں طاق عدد کی رعایت کرنا بہت ہی مفید ہے۔ اس طور پر کہ سالک ایک ہی سانس میں پہلے تین بار پھر پانچ بار اس طریقہ پر یہ مشق بڑھاتا جائے یہاں تک کہ ایک ہی سانس میں اکیس بار یہ ذکر کرے۔ البتہ یہ شرط و لازم نہیں ہے۔ طاق عدد کی اس رعایت کو اہل تصوف کی اصطلاح میں وقوف عددی کہا جاتا ہے۔ نیز چاہئے کہ ذکر کے وقت بزبان حال کمال عجز و انکساری سے بارگاہ الٰہی میں یہ التجا کرے۔

خداوندا مقصود من توئی و رضائے تو
محبت و معرفت خود مرا بدہ

ترجمہ: الٰہی تو ہی میرا مقصود ہے اور میں تیری ہی رضا کا طالب ہوں۔ تو مجھے اپنی محبت و معرفت عطا فرما۔

چونکہ ذکر نفی و اثبات میں غیر معمولی حرارت و گرمی ہوتی ہے، اسلئے ہمارے مشائخ عموماً سردی کے موسم میں اسکی اجازت دیتے تھے۔ جبکہ بعض لوگوں کو سردیوں میں بھی سانس روکنا دشوار ہوتا ہے، ایسے لوگوں کو سانس روکے بغیر اور بلا رعایت تعداد ذکر نفی و اثبات کی اجازت دی جاتی ہے۔

چونکہ ذکر نفی و اثبات تمام سلوک کا خلاصہ اور مکھن ہے اور اس سے غیر کے خیالات کی نفی، محبت الٰہی میں اضافہ اور قلب میں رقت پیدا ہوتی ہے تو اس سے بعض اوقات تو کشف بھی حاصل ہوتا ہے۔ لہٰذا سالک کو چاہئے کہ اسکے حصول کی پوری طرح کوشش کرے۔ اگر کچھ عرصہ ذکر کرنے کے باوجود مذکور فوائد حاصل نہ ہوں تو سمجھے کہ میرے عمل میں کسی قسم کی کمی رہ گئی ہے۔ لہٰذا پھر سے بتائے گئے طریقے کے مطابق ذکر شروع کرے۔

نیز مشائخ نے فرمایا ہے کہ اس ذکر کے دوران اعتدال طبع کا خصوصی اہتمام کیا جائے۔ مرغّن غذا اور ہضم کے مطابق دودھ استعمال کرنا چاہئے تاکہ گرمی کی وجہ سے دماغ میں خشکی پیدا ہوکر ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے۔

سبق نہم: ذکر تہلیل لسانی

ذکر تہلیل لسانی کا طریقہ بعینہ وہی ہے جو ذکر نفی و اثبات میں بیان ہوا۔ فرق یہ ہے کہ اس میں سانس نہیں روکا جاتا اور کلمہ طیبہ ”لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ“ کا ذکر زبان سے کیا جاتا ہے۔

فائدہ: رات اور دن میں کم ازکم گیارہ سو مرتبہ کلمہ طیبہ کا یہ ذکر کیا جائے۔ اسکی اعلیٰ تعداد پانچ ہزار ہے۔ اس سے زیادہ جتنا چاہے کلمہ شریف کا یہ ورد کرے۔ اس سے زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ ایک ہی وقت میں یہ تعداد مکمل کرنا بھی ضروری نہیں اورنہ ہی باوضو ہونا شرط ہے۔ البتہ باوضو ہونا بہتر ہے۔ رات اور دن میں جب چاہے حضور قلب کے ساتھ معنی کا خیال کرکے ذکر کیا جائے۔

ذکر تہلیل لسانی سے حضور قلب حاصل ہوتا ہے اور لطائف کو اپنے موجودہ مقامات سے اوپر کی طرف ترقی حاصل ہوتی ہے اور غیر کے خطرات و خیالات کی نفی ہوتی ہے۔ بعض اوقات واردات کا نزول بھی ہوتا ہے۔

طریق دوم مراقبہ

لطائف عالم امر کی اصلاح کا دوسرا طریقہ مراقبہ ہے۔ جس کامطلب یہ ہے کہ ذکر اور رابطہ شیخ کے سوا تمام خیالات و خطرات سے دل کو خالی کرکے رحمت الٰہی کا انتظار کیا جائے۔ اسی انتظار کا نام مراقبہ ہے۔ چونکہ فیض و رحمت الٰہی کا نزول لطائف پر ہوتا ہے اس لئے لطائف کی مناسبت سے ان مراقبات کے نام بھی جدا جدا اور انکی نیات بھی مختلف ہیں۔

سبق دہم: مراقبہ احدیت

مراقبہ احدیت کی نیت کرتے وقت سالک دل میں یہ پختہ خیال رکھے کہ میرے لطیفہ قلب پر اس ذات والاصفات سے فیض آرہا ہے جو اسم مبارک اللہ کا مسمیٰ (مصداق) ہے۔ وہی جامع جمیع صفات کمال ہے اور ہر عیب و نقص سے پاک ہے۔ یہ خیال کرکے فیض الٰہی کے انتظار میں بیٹھ جائے۔ اس مراقبہ سے سالک کو حق تعالیٰ کا حضور اور اسکے ماسوا سے غفلت حاصل ہوتی ہے۔

فائدہ: مراقبہ احدیت کے بعد ولایت صغریٰ کے مراقبات مشارب کا مقام آتا ہے جسے دائرہ ممکنات بھی کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے مراقبات مشارب پانچ ہیں۔ ان میں سے ہر ایک لطیفہ کا مراقبہ کرتے وقت سالک کو چاہئے کہ آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم تک اپنے سلسلہ کے تمام مشائخ کے ان لطائف کو اپنے لطیفہ کے سامنے تصور کرکے یہ خیال کرے کہ اس لطیفہ کا خاص فیض جو بارگاہِ الٰہی سے حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس لطیفہ مبارک میں آرہا ہے، بترتیب مشائخ سلسلہ عالیہ کے، اسی لطیفہ سے ہوتا ہوا میرے اس لطیفہ میں پہنچ رہا ہے۔ نیز جاننا چاہئے کہ ان میں سے ہر ایک لطیفہ کا اثر و فائدہ دوسرے سے مختلف ہے۔ اسلئے جب تک پہلے والے لطیفہ کا اثر سالک کے لطیفہ میں محسوس نہ ہو، دوسرا مراقبہ شروع نہ کیا جائے۔ ورنہ سلوک کا اصل مقصد یعنی مقام فنا تک رسائی نصیب نہ ہوگی۔

مراقبات مشارب
سبق یازدہم: مراقبہ لطیفہ قلب

اس مراقبہ میں سالک اپنے لطیفہ قلب کو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ قلب کے بالکل سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہِ الٰہی میں یہ التجاکرے ”یا الٰہی تجلیات افعالیہ کا وہ فیض جو آپ نے ہمارے آقا و مولیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ قلب سے حضرت آدم علیہ السلام کے لطیفہ قلب میں القا فرمایا ہے وہ حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ قلب میں القا فرما۔“

فائدہ: سالک کو جب لطیفہ قلب کی فنا حاصل ہوجاتی ہے تو اپنے افعال بلکہ تمام مخلوق کے افعال کو حضرت حق سبحانہ و تعالیٰ کے افعال کا اثر و پرتو سمجھنے لگتا ہے اور کائنات کی تمام ذات و صفات کو حق تعالی کی ذات و صفات کا مظہر سمجھتا ہے اور اسکا قلب دنیا کی خوشی خواہ غم سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ اسلئے ہے کہ اسوقت اسے فاعل حقیقی یعنی اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے سوا کسی اور کا فعل نظر ہی نہیں آتا۔

سبق دوازدہم: مراقبہ لطیفۂ روح

اس مراقبہ کے وقت سالک اپنے لطیفۂ روح کو آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ روح کے سامنے تصور کرکے بزبان خیال بارگاہ الٰہی میں یہ عرض کرے ”یا الٰہی ان صفات ثبوتیہ یعنی علم قدرت، سمع، بصر و ارادہ وغیرہ کی تجلیات کا فیض جو تونے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفۂ روح سے حضرت نوح علیہ السلام کے لطیفہ روح اور حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لطیفہ روح میں مرحمت فرمایا تھا، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ روح میں القا فرما۔“

فائدہ: سالک کو جب لطیفہ روح میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو اسکی نظر سے اپنی اور تمام مخلوقات کی صفات اوجھل ہوجاتی ہیں اور وہ تمام صفات حق تعالیٰ ہی کے لئے سمجھنے لگتا ہے۔

سبق سیزدہم: مراقبہ لطیفہ سر

اس مراقبہ میں سالک اپنے لطیفہ سر کو حضور اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ سر مبارک کے سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہِ الٰہی میں یہ التجا کرے ”یا الٰہی ان تجلیاتِ ذاتیہ کا فیض جو تونے سید المرسلین صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ سر سے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لطیفہ سر میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے صدقے میں میرے لطیفہ سر میں القا فرما۔“

فائدہ: سالک کو جب لطیفہ سر میں فنا حاصل ہوجاتی ہے تو وہ اپنی ذات کو ذاتِ حق تعالیٰ میں اس قدر مٹا ہوا پاتا ہے کہ اسے ذات حق سبحانہ و تعالی کے سوا کوئی اور ذات نظر ہی نہیں آتی۔ اس مقام پر سالک کو نہ تو کسی کی تعریف و توصیف کرنے سے خوشی حاصل ہوتی ہے، نہ کسی کے طعن و ملامت کی پرواہ ہوتی ہے۔ بس ہر وقت ذات حق سبحانہ وتعالیٰ میں مستغرق رہتا ہے۔

سبق چہاردہم: مراقبہ لطیفہ خفی

اس سبق میں سالک اپنے لطیفہ خفی کو سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ خفی کے سامنے تصور کرکے زبانِ خیال سے بارگاہ الٰہی میں یہ التجا کرے ”یا الٰہی تجلیات صفات سلبیہ کا فیض جو تونے آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ خفی مبارک سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے لطیفہ خفی میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ خفی میں القا فرما۔“

فائدہ: صفات سلبیہ سے وہ تمام صفات مراد ہیں جو نقص و عیب میں شمار ہوتی ہیں اور ذات باری تعالیٰ ان سے پاک و منزہ ہے۔ مثلاً اولاد، بیوی، جسم، جوہر، عرض، زمان و مکان وغیرہ۔

سبق پانزدہم: مراقبہ لطیفہ اخفیٰ

اس سبق میں سالک اپنے لطیفہ اخفیٰ کو آنحضرت سرور عالم صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ اخفیٰ کے سامنے تصور کرکے زبان خیال سے یہ عرض کرے ”یا الٰہی تجلیات شان جامع کا وہ فیض جو آپ نے آنحضرت صلّی اللہ علیہ وسلم کے لطیفہ اخفیٰ مبارک میں القا فرمایا ہے، حضرات پیران کبار کے طفیل میرے لطیفہ اخفیٰ میں القا فرما۔“

فائدہ: سالک کو جب لطیفہ اخفی میں فنائیت حاصل ہوجاتی ہے تو اسے حضرت حق سبحانہ وتعالیٰ کا خصوصی قرب حاصل ہوجاتا ہے۔ اسلئے اس کے لئے اخلاق الٰہی اور اخلاق نبوی علیٰ صاحبہا الصلوٰۃ والسلام سے متصف ہونا آسان ہوجاتا ہے۔ بالخصوص نماز میں بہت لذت حاصل ہوتی ہے۔

فائدہ: عالم امر کے ان پانچوں لطائف کی فنائیت کے بعد دائرہ امکان کی سیر ختم ہوجاتی ہے۔ بعض مشائخ نے انوار و تجلیات دیکھنے کو اس دائرہ کے طے کرنے کی علامت فرمایا ہے۔ واضح رہے کہ دائرہ امکان کا نصف زمین سے عرش تک ہے اور دوسرا نصف عرش سے اوپر ہے۔ جبکہ عالم خلق عرش سے نیچے ہے۔ اسکی شکل یہ ہے:

اس کے بعد مراقبہ معیت کیا جاتا ہے۔

سبق شانزدہم: مراقبہ معیت

اس مراقبہ میں آیت کریمہ ”وَ ھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ“ یعنی وہ ہر جگہ تمھارے ساتھ ہے، کی معنیٰ کا خیال کرکے خلوص دل کے ساتھ یہ خیال و تصور کرے کہ اس ذات پاک سے میرے لطیفہ قلب پر فیض آرہا ہے، جو میرے ساتھ اور تمام موجودات کے ہر ذرہ کے ساتھ ہے، اس شان کے مطابق جو وہ چاہتا ہے۔ اس سبق میں منشاء فیض ولایت صغریٰ کا دائرہ ہے جو اولیاء عظام کی ولایت اور اسماء حسنہ اور صفات مقدسہ کا سایہ ہے۔ اس مقام میں تہلیل لسانی یعنی ”لا الٰہ الا اللہ“ کا زبانی ذکر معنی کا لحاظ کرتے ہوئے، اس طرح کہ سالک کی توجہ قلب کی طرف ہو اور قلب کی توجہ اللہ تعالی کی طرف ہو، بہت فائدہ دیتا ہے۔

فائدہ: اس مقام پر سالک کو فنائے قلبی اور بقائے قلبی و دوام حضور حاصل ہوتا ہے۔ یعنی یاد الٰہی میں اس قدر مستغرق ہوجاتا ہے کہ اس کے ماسوا کو بالکل بھول جاتا ہے اور کسی بھی لمحہ اس کی یاد سے غافل نہیں ہوتا۔ اس مقام پر سالک کو لوگوں سے وحشت اور بیگانگی ہوتی ہے اور وہ ہمیشہ ذکر اور مقام حیرت میں محو رہتا ہے۔

نوٹ: واضح رہے کہ دائمی حضور و بقا پر دائرہ ولایت صغریٰ کی تکمیل ہوتی ہے۔

 

(ماخوذ از جلوہ گاہِ دوست، تحریر حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی)