فہرست

اصطلاحات طریقہ عالیہ نقشبندیہ


اصطلاحات طریقہ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ

 

اے عزیز جاننا چاہیے کہ طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے چند اصول ہیں جن پر طریقہ عالیہ کا دارومدار ہے اور ان پر عمل کیے بغیر نقشبندی سلسلہ کی نسبت حاصل نہیں ہوتی، الاماشاء اللہ۔

اصطلاحات نقشبندیہ کے نام سے مشہور ان پرتاثیر و مفید اصول میں سے

  1. ہوش دردم
  2. نظر بر قدم
  3. سفر در وطن
  4. خلوت در انجمن
  5. یاد کرد
  6. باز گشت
  7. نگہداشت
  8. یادداشت۔

یہ آٹھ اصطلاحات خواجۂ خواجگان حضرت عبدالخالق غجدوانی رحمۃ اللہ علیہ سے منقول ہیں، جبکہ انکے بعد تین اور اصطلاحات

  1. وقوف زمانی
  2. وقوف عددی اور
  3. وقوف قلبی

کا خواجہ خواجگان حضرت شاہ نقشبند بخاری قدس سرہٗ نے اضافہ فرمایا ہے۔ اس طرح اصطلاحات سلسلہ نقشبندیہ کی تعداد گیارہ ہے۔

تشریح اصطلاحات

 

۱۔ ہوش در دم

ہوش در دم کا مطلب یہ ہے کہ سالک اپنی ہر سانس کے متعلق ہوشیار و بیدار رہے کہ خدا کی یاد میں صرف ہوا یا غفلت میں، اور یہ کوشش کرے کہ ایک سانس بھی اس کی یاد سے غفلت میں نہ گذرے۔ اس لیے چاہئے کہ ہر ساعت کے بعد اس طرح غور کرتا رہے تاوقتیکہ اسے دائمی حضور حاصل ہوجائے۔ غور کرنے پر اگر کبھی غفلت معلوم ہو تو استغفار کرے اور آئندہ کے لیے توبہ کرے اور اس سے بچنے کا پختہ ارادہ کرلے۔

دم بدم دم را غنیمت دان و ہمدم شو بدم
واقفِ دم باش در دم ہیچ دم بیجا مدم

ہر وقت ہر سانس کو غنیمت جان اور دم کے ساتھ ہمدم ہوجا۔ اپنے ہر ایک سانس سے باخبر رہ کوئی ایک سانس بھی بے مقصد نہ لے۔

حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند قدس سرہٗ نے فرمایا ہے ”اس طریقہ کا دارو مدار ہی دم یعنی سانس پر ہے۔ سانس اندر آتے یا باہر جاتے وقت غفلت میں ضایع نہ ہونے پائے۔ ہر ایک سانس حضورِ دل سے ہو۔“

حضرت شاہ نقشبند قدس سرہٗ کا ذاتی عمل کیا تھا اور انہوں نے کس طرح اپنے دم کی حفاظت کی، اس بارے میں حضرت مولانا عبدالرحمٰن جامی قدس سرہٗ تحفۃ الاحرار میں فرماتے ہیں:

کم زدہ بے ہمدمی وہوش دم
در نگذشتہ نظرش از قدم

بس زخودکردہ بسرعت سفر
باز نماندہ قدمش ازنظر

یعنی حضوری اور غور کے سوا کم ہی سانس لیے تھے، انہوں نے قدم سے آگے اپنی نظر نہ بڑھائی تو جلدی سے آگے کا سفر شروع کیا اور ان کا قدم رکا نہ رہا بلکہ قرب الٰہی حاصل کرلیا۔

۲۔ نظر بر قدم

نظر بر قدم سے یہ مراد ہے کہ سالک چلتے پھرتے وقت اپنی نظر پاؤں پر یا اسکے قریب رکھے۔ آگے دور دور تک بلاوجہ نہ دیکھے اور بیٹھنے کی صورت میں اپنے سامنے دیکھے، دائیں یا بائیں نہ دیکھے۔ نہ ہی عام لوگوں کی بات چیت کی طرف متوجہ ہو کہ ممکن ہے ادھر ادھر دیکھنے سے کسی غیر محرم پر نظر پڑجائے یا نامناسب کلام سن لے اور اس طرف متوجہ ہوجائے اور مقصد اصلی سے توجہ ہٹ جائے جو کہ بہت بڑا خسارہ ہے۔

شرع شریف میں بحالت نماز قیام کے وقت سجدہ کی جگہ اور رکوع میں پشت قدم اور سجدہ میں ناک کی چوٹی پر اور قعدہ میں اپنی جھولی پر نظر رکھنے کا حکم بھی اس لیے ہے کہ نمازی کو جمعیۃ قلبی حاصل رہے اور اسکے خیالات منتشر نہ ہونے پائیں۔

ایک مفید نقل: حضرت ربیع بن خیثم رضی اللہ عنہ ہمیشہ سر جھکائے رہتے تھے، یہاں تک بعض لوگ یہ خیال کرتے تھے کہ شاید آپ نابینا ہیں۔ حضرت مسعود رضی اللہ عنہ جن کے گھر بیس برس سے آتے جاتے تھے، ان سے فرماتے تھے بخدا اے ربیع اگر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم آپ کو دیکھتے تو بہت خوش ہوتے۔ اسی طرح اور بھی بہت سے بزرگوں کے متعلق مشہور ہے کہ انہوں نے چالیس چالیس برس تک سر اٹھا کر آسمان کی طرف نہ دیکھا۔

صوفیاء کرام کے دیگر اعمال کی طرح نظر بر قدم کا یہ عمل بھی قرآن مجید سے ثابت ہے۔ ارشاد خداوندی ہے قُلْ لِلْمُؤمِنِیْنَ یغُضُّوْا مِنْ اَبْصَارِھِمْ۔ اے پیغمبر صلّی اللہ علیہ وسلم آپ مسلمانوں سے فرمادیں اپنی نگاہیں نیچی رکھیں۔

وقت رفتن برقدم بایدنظر
ہست سنت خیر البشر

اندریں حکمت بس است وبے شمار
دیدہ خواہد طالبِ حق آشکار

ترجمہ: چلتے وقت نظر پاؤں پر ہونی چاہیے کہ یہ نبی کریم صلّی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے اور اس میں بہت سی حکمتیں ہیں، جن کو طالب ظاہر ظہور دیکھے گا۔

شیخ العرب والعجم حضرت پیر فضل علی قریشی مسکین پور ی قدس سرہٗ فرمایا کرتے تھے کہ ہر وقت نظر بر قدمِ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم رہے، یعنی ہر لمحہ شریعت و سنت پیش نظر ہو اور تمام حرکات و سکنات، اخلاق و عادات سنت نبویہ کے مطابق ہوں اور یہی طریقہ عالیہ نقشبندیہ کی امتیازی علامت ہے۔

۳۔ سفر در وطن

سفر در وطن سے باطنی و روحانی سفر مراد ہے اور اسکا مطلب یہ ہے کہ سالک گھر بیٹھے بری بشری صفات مثلاً حسد، تکبر، کینہ، حب جاہ و مال وغیرہ کو ترک کرکے مَلکی یعنی فرشتوں والی صفات مثلاً صبر و شکر، رضا بالقضا، اعمالِ صالحہ اور ان میں اخلاص اختیار کرلے۔ ایسا کرنے سے غیر اللہ کی محبت دل سے ختم ہوجائیگی اور روحانی ترقی حاصل ہوگی۔ اگر کبھی دل میں غیر کی محبت معلوم ہو تو اس کو اپنے لیے خسارہ کا باعث جان کر کلمہ ”لا“ سے اسکی نفی کرے اور ”الَّا اللہ“ کے کلمہ مبارکہ سے محبت الٰہی کا اثبات کرے اور پھر سے اپنے خالق و مالک و مولیٰ عزوجل کی طرف متوجہ ہوجائے اور گھر بیٹھے قرب الٰہی سے لطف اندوز ہو، بقول مولانا عبدالرحمٰن جامی قدس سرہٗ السامی

آئینۂ صورت از سفر دور است
کآں پذیرائے صفت از نور است

ترجمہ: آئینہ صورت کی طرف سفر نہیں کرتا کیونکہ صورت کا قبول کرنا اسکی اپنی صفائی اور نورانیت کے سبب سے ہے۔ یہ تو ایک مشاہدہ کی بات ہے کہ کوئی بھی صورت منعکس کرنے کے لیے خود آئینہ کسی کے پاس نہیں جاتا۔ اگر آئینہ صاف و شفاف ہے تو جو بھی شکل و صورت اسکے سامنے آجائے گی اس میں نقش دکھائی دیگی۔ اسی طرح دل کا آئینہ بھی اگر موجودات کے تصورات کی آلائشوں سے پاک و صاف ہوگا تو گھر بیٹھے محبوب حقیقی جل وعلیٰ کی تجلیات کا اس پر نزول ہوگا اور وہ دل حدیث نبویہ ”قَلْبُ الْمُؤْمِنِ بَیْتُ اللہ“ کہ مؤمن کا دل خدا کا گھر ہے، کے مطابق خدا کا گھر بن جائے گا۔

سیدی و مرشدی سوہنا سائیں نور اللہ مرقدہٗ فرمایا کرتے تھے کہ جس نے اپنے دل میں مال و دولت اور خواہشات نفسانیہ کو جگہ دی تو بمطابق ”ولے سلطان محبوباں غیور است“ یعنی محبوبوں کا سردار بہت غیرت مند ہے، تو اس دل میں مالک کون و مکان، خالق انس و جان رب العزۃ جل تعالیٰ سبحانہٗ کا ٹھکانا نہیں ہوسکتا اور اس دل کو قلب المؤمن بیت اللہ کا شرف حاصل نہیں ہوسکتا۔ البتہ اس صورت میں یہ ممکن ہے کہ دل میں یاد الٰہی ہو اور اس میں ذرہ برابر بھی غیر اللہ کی محبت و الفت نہ ہو، ساتھ ہی اسکے پاس مال و دولت بھی ہو لیکن اسکا دل اس کی محبت سے خالی ہو۔

فائدہ: یاد رہے کہ انبیاءِ کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ علیہم الرحمۃ والرضوان کی محبت اور اسی طرح اگر کسی اور چیز یا شخص سے محبت اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ہے تو وہ غیر اللہ کی محبت میں شمار نہیں ہوگی۔ بلکہ انکی صحبت و محبت باطنی ترقی اور قرب الٰہی کا ذریعہ ہے۔ چنانچہ مفسر قرآن علامہ صاوی علیہ الرحمۃ آیت نمبر ۳۵ سورہ مائدہ کے تحت لکھتے ہیں وسیلہ جس سے قرب الٰہی حاصل ہوتا ہے وہ انبیاء کرام علیہم السلام اور اولیاء اللہ کی محبت، صدقات و خیرات، اہل اللہ کی زیارت، کثرۃ دعا، صلہ رحمی، کثرۃ ذکر وغیرہ یہ سبھی وسیلہ میں سے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ جس چیز سے اللہ کا قرب حاصل ہو اس کو لازم پکڑو اور جو اس سے دور کرے اس سے دور رہو۔

۴۔ خلوۃ در انجمن

اس کا مطلب یہ ہے کہ سالک کا دل ہمیشہ یاد الٰہی میں مشغول رہے، خواہ خاموش ہو یا بات چیت کر رہا ہو یا کھا پی رہا ہو، لیکن اس کا دل پلک جھپکنے کی دیر بھی اللہ تعالیٰ کی یاد سے غافل نہ ہو۔ بزرگان دین فرماتے ہیں: اَلْصُوْفِیْ کَائِنٌ فِیْ الخَلْقِ بِحَسْبِ الظَاھِرِ وَباَئِنٌ عَنِ الخَلْقِ بِحَسْبِ البَاطِن۔ یعنی صوفی وہ ہے جو ظاہر میں تو لوگوں سے میل جول رکھتا ہو لیکن اس کا باطن مخلوق سے بالکل جدا ہو۔

حضرت شاہ نقشبند قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ آیت کریمہ ”رِجَالٌ لَاتُلْہِیْھِم ْتِجَارَۃٌ وَّلَا بَیْعٌ عَنْ ذِکْرِ اللہ۝“ (وہ ایسے لوگ ہیں جن کو تجارۃ اور خرید و فروخت اللہ تعالیٰ کے ذکر سے غافل نہیں کرتی) اسی مذکورہ حالت کی طرف اشارہ ہے۔ یہ آیت حضرات صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے بارے میں نازل ہوئی ہے، جس میں انکے ہر وقت ذکر کرنے اور متوجہ الی اللہ رہنے کا ذکر اور ساتھ ہی بعد والوں کے لیے اسکی ترغیب ہے۔

طریقہ عالیہ نقشبندیہ کے ایک اور شیخ حضرت عزیزان علی رامیتنی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں، شعر:

از دروں شو آشنا و از بروں بیگانہ اش
ایں چنیں زیبا روش کم مے شود اندر جہاں

ترجمہ: اپنے باطن کے متعلق باخبر رہ اور بیرونی اشیاء سے بے خبر ہوجا، کیونکہ ایسی عمدہ وصف جہاں میں کم ہی پائی جاتی ہے۔

مروی ہے کہ کسی شخص نے حضرت شاہِ نقشبند قدس سرہٗ سے دریافت کیا کہ آپکے طریقہ کی بنیاد کس چیز پر ہے۔ آپ نے جواباً ارشاد فرمایا خلوت در انجمن پر یعنی ظاہر باخلق اور باطن باخدا ہونے پر ہمارے طریقہ عالیہ کا مدار ہے۔

سیدی و مرشدی حضرت سوہنا سائیں رحمۃ اللہ علیہ ذکر قلبی کی تلقین کے وقت عموماً یہ ارشاد فرماتے تھے دست بکار و دل بیار۔ یعنی ہاتھ کام کاج میں مصروف رہیں لیکن دل محبوب حقیقی اللہ تعالیٰ کی طرف متوجہ رہے۔ مزید فرماتے تھے کہ ہاتھوں سے جائز و حلال طریقہ پر خواہ چوبیس گھنٹے تجارت، زراعت، ملازمت یا مزدوری کرتے رہو، مگر تمہارے دل میں ہر وقت یہ خیال رہے کہ میرا دل ذکرکررہا ہے اللہ، اللہ، اللہ۔۔۔۔۔۔

از بروں درمیانِ بازارم
و از دروں خلوتے است بایارم

ترجمہ: میرا جسم تو بازار میں ہے لیکن میرا باطن اپنے یار یعنی اللہ رب العزت کے ساتھ ہے۔

۵۔ یادکرد

یادکرد کا مطلب یہ ہے کہ سالک کو مرشد کامل نے جس طرح بھی ذکر اسم ذات کی تلقین کی ہو، اسی کے مطابق ذکر میں مشغول رہے۔ خواہ وہ ذکر قلبی ہو یا جہری یانفی و اثبات۔ اس میں سستی و کوتاہی نہ کرے۔ دل کی محبت اور لگن کے ساتھ مسلسل ذکر کرتا رہے یہاں تک کہ حضورِ حق تعالیٰ حاصل ہوجائے۔

ذکر کن ذکر کن تا ترا جان است
پاکئے دل زذکرِ رحمان است

ترجمہ: ذکر کرتے رہو، ذکر کرتے رہو جب تک تمہاری جان میں جان ہے۔ دل کی پاکیزگی اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہی حاصل ہوتی ہے۔

آیہ کریمہ وَاذْکُرُوا اللہ کَثِیْرًا لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ۝۔ کہ اللہ تعالیٰ کا بہت زیادہ ذکر کرو تاکہ تم کامیاب ہوجاؤ۔ سے صراحۃ ثابت ہوتا ہے کہ کامیابی و کامرانی کا مدار ذکر اللہ پر ہے۔

حضرت شاہ نقشبند قدس سرہٗ فرماتے ہیں اَنَّ الْمَقْصُوْدَ مِنَ الذِکْرِ اَنْ یَکُونَ القَلْبُ دَائِماَ حَاضِرًا مَعَ الحَقِ بِوَصْفِ المَحِبَّۃِ والتَعْظِیْمِ لِاَنَّ الذِّکْرَ طَرْدُ الغَفْلَۃ۔ یعنی ذکر سے مقصود یہ ہے کہ دل ہر وقت اللہ تعالیٰ کے حضور محبت اور تعظیم کے اوصاف کے ساتھ حاضر رہے، اس لیے کہ ذکر نام ہی غفلت دور کرنے کا ہے۔

حضرت خواجہ علاؤالدین عطار رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں۔

باش دائم اے پسر در یادِ حق
گر خبر داری زعدل وداد حق

ترجمہ: اے صاحبزادہ اگر تجھے اللہ تعالیٰ کے عدل و انصاف کا علم ہے تو چاہیے کہ ہر وقت اسے یاد کرتا رہ۔

۶۔ بازگشت

یعنی رجوع کرلینا اور اسکا مطلب یہ ہے سالک کچھ دیر ذکر کرنے کے بعد بارگاہ الٰہی میں یہ مناجات کرے

خداوندا مقصود ما توئی و رضائے تو
محبت معرفت خود مرا بدہ

ترجمہ: الٰہی میرا مقصود تو اور تیری رضا ہے، مجھے اپنی محبت و معرفت عطا کردے۔ یہ کلمات دل ہی دل میں کمال عجز و انکساری سے کہے، تاکہ ذکر و فکر سے جو سرور یا نور حاصل ہوا ہو اس پر طالب مغرور نہ ہو، نہ ہی اسکو اپنا مقصود سمجھ لے، بلکہ محبت و رضائے الٰہی کے لیے کوشاں رہے۔

مولانا روم علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں:

اے برادر بے نہایت در گہے است
ہرچہ بروے می رسی دروے مأیست

ترجمہ: بھائی جان یہ بے انتہا درگاہ ہے، جس مقام پر بھی تو پہنچے وہاں کھڑا نہ رہ جا بلکہ آگے بڑھتا رہ۔

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے اپنے والد مرشد قدس سرہٗ سے سنا ہے کہ ذکر میں بازگشت شرط عظیم ہے، لائق نہیں کہ سالک اس سے غافل رہے، ہم نے جو کچھ پایا اسی کی برکت سے پایا ہے۔

۷۔ نگہداشت

نگہداشت کا مطلب یہ ہے کہ سالک ذہنی تصورات اور وسوسوں کو دل سے نکال باہر کردے اور ہر وقت ان خیالات و خطرات کے دل میں آنے سے بیدار و ہوشیار رہے تاکہ کوئی خطرہ دل میں جاکر گھر نہ بنالے کہ پھر اس کے نکالنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑے۔ جب بیرونی خطرات و خیالات کا آنا ختم ہوجائے گا تو سالک کو ملکہ جمعیۃ و طمانیت یعنی ایک طرح سے سکون و فرحت حاصل ہوجائے گی اور وہ فناء قلب کا مقام حاصل کرلیگا۔ البتہ اگر پھر بھی خیالات پیدا ہوں یا زائل نہ ہوں تو سالک کو چاہیے کہ ذکر اللہ میں محو ہوجائے اور اپنے شیخ کامل و مکمل کا تصور کرلے تو انشاء اللہ تعالیٰ غیر کے خیالات اور وسوسوں سے چھٹکارہ حاصل ہوجائے گا۔

حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری قدس سرہٗ فرماتے ہیں، سالک کو چاہیے کہ خطرہ و خیال کو ابتداء ہی سے روک دے ورنہ جب یہ ظاہر ہوجائیں گے تو نفس ان کی طرف مائل ہوجائے گا اور جب نفس میں انکا اثر مضبوط ہوجائے گا تو پھر ان کا دور کرنا بہت مشکل ہوجائے گا۔

نگہداشت کا ملکہ حاصل ہوجانے کے بعد سالک نہ فقط غیر کے خیالات و خطرات سے دور رہتا ہے، بلکہ بعض اوقات اسے اپنی جان تک کا علم نہیں رہتا چنانچہ خواجۂ خواجگان حضرت پیر مٹھا رحمت پوری رحمۃ اللہ علیہ کے متعلق مشہور ہے کہ تبلیغ دین اور وعظ و نصیحت میں آپ اس قدر محو و مستغرق رہتے تھے کہ آپ کو گرمی، سردی، بھوک و پیاس کا کوئی احساس نہیں رہتا تھا، اسی برس کے قریب عمر اور خوراک چوبیس گھنٹوں میں فقط ایک چھٹانک آٹے کی روٹی، پھر بھی تبلیغ دین کا اس قدر جذبہ کہ نماز فجر کے بعد جو وعظ شروع فرماتے دوپہر کے ایک دو بج جاتے، بعض اوقات تو نماز ظہر ادا کرکے ہی دولت خانہ میں تشریف لے جاتے تھے۔

۸۔ یادداشت

نگہداشت کی مسلسل کوشش کے بعد سالک کا قلب بلاتکلف خود بخود بے مثل و بے مثال ذات حق تعالیٰ کی طرف متوجہ ہوجاتا ہے اور وہ آیت مبارکہ ”وَھُوَ مَعَکُمْ اَیْنَمَا کُنْتُمْ“ یعنی وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں کہیں تم ہو۔ اسے یادداشت کہتے ہیں اور یادداشت کا ملکہ حاصل ہوجانے کے بعد سالک کا دل ذکر حق میں اس قدر محو و مستغرق ہوجاتا ہے کہ خیالات کو پراگندہ و منتشر کرنیوالی چیزوں کا دل پر گذر بھی نہیں ہوتا۔

۹۔ وقوف زمانی

وقوف زمانی سے مراد یہ ہے کہ سالک اپنے نفس کا جائزہ لیتا رہے اور ہر ساعت کے بعد غور سے دیکھے، اگر گذشتہ وقت اللہ تعالیٰ کی یاد میں گذارا ہو تو شکر کرے اور اگر غفلت ہوئی ہو تو توبہ و استغفار کرے اور آئندہ کے لیے اس سے بچنے کا پختہ ارادہ کرلے اور کبھی بھی شرعی حدود سے باہر قدم نہ رکھے۔ ارشاد خداوندی ”وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ“ یعنی ہر جان دیکھ لے کہ اس نے کل کے لیے کیا آگے بھیجا ہے۔ میں اسی جانب اشارہ ہے۔

سیدنا امیر المؤمنین حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، آپ نے فرمایا ”حَاسِبُوْا قَبْلَ اَنْ تُحَاسَبُوْ وَزِنُوْ ا قَبْلَ اَن ْتُوْزَنُوْا واَسْتَعِدُّوْا لِلعَرْضِ الاَکْبَرِ“۔

ترجمہ: محاسبہ کیے جانے سے پہلے اپنا محاسبہ خود کرلو اور وزن کیے جانے سے پہلے خود وزن کرلو اور تیار ہوجاؤ عرض اکبر یعنی قیامت کے دن کے واسطے جہاں تم سے حساب لیا جائے گا اور تمہارے اعمال تولے جائیں گے۔

۱۰۔ وقوف عددی

ذکر نفی و اثبات میں طاق عدد کی رعایت کرنے کو وقوف عددی کہتے ہیں۔ یعنی ایک ہی سانس میں تین سے لیکر اکیس مرتبہ تک کسی بھی طاق عدد پر سانس لے لے، ابتداء کم عدد مثلاً تین یا پانچ سے کرے اور آہستہ آہستہ تعداد بڑھاتا جائے۔ ”اِنَّ اللہ وِتْرُیُحِبُّ الْوِتْرَ“ کہ اللہ طاق یعنی ایک ہے اور طاق کو پسند کرتا ہے۔ اس حدیث کے مطابق طاق عدد جفت سے افضل ہے۔ عدد کی رعایت اس لیے کی جاتی ہے کہ خیالات ادھر ادھر نہ بھٹکیں۔ بالفرض اگر اکیس عدد تک پہنچنے کے باوصف اسکے اثرات ظاہر نہ ہوں تو چاہیے کہ پھر سے ذکر نفی و اثبات شروع کرے۔

۱۱۔ وقوف قلبی

وقوف قلبی کا مطلب یہ ہے کہ سالک ہر دم اپنے دل کی طرف جو بائیں پستان کے نیچے دو انگل کے فاصلہ پر واقع ہے، متوجہ رہے۔

حضرت خواجہ عبیداللہ احرار قدس سرہٗ فرماتے ہیں کہ حق تعالیٰ کی جناب میں دل کی ایسی آگاہی اور حاضری کا نام وقوف قلبی ہے جسکی بدولت دل کو حق تعالیٰ کے سوا کسی اور کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔

حضرت خواجہ بہاؤالدین نقشبند بخاری قدس سرہٗ نے حبس دم اور عدد طاق کی رعایت کو ذکر میں لازم نہیں فرمایا، مگر وقوف قلبی کو ذکر کے لیے ضروری قرار دیا ہے، اس لیے کہ بغیر وقوف قلبی کے غفلت کا دور ہونا مشکل ہے اور غفلت کے ساتھ کیا جانے والا عمل بے اثر ہوتا ہے۔ مولانا رومی علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں

بر زبان تسبیح و در دل گاؤ و خر
ایں چنیں تسبیح کے دارد اثر

ترجمہ: تمہاری زبان پر تسبیح اور دل میں گائے اور گدھے کے خیالات ہیں، اس قسم کی تسبیح کیا اثر رکھے گی۔

 

(ماخوذ از جلوہ گاہِ دوست، تحریر حضرت خواجہ محبوب سجن سائیں مدظلہ العالی)