فہرست الطاہر شمارہ نمبر 46
شعبان 1428ھ بمطابق اگست 2007ع

درس حدیث

توبہ

قسط ۔ 2

شیخ الحدیث علامہ عبدالقدیر شیخ طاہری

گذشتہ سے پیوستہ

4۔ توبہ سے بندے کو کیا ملتا ہے؟ گناہ سے بندہ کافی کچھ ضایع کردیتا ہے، خسارہ میں پڑجاتا ہے۔ توبہ سے وہ کھویا ہوا مقام حاصل کرتا ہے۔ بندہ اللہ تعالیٰ کے قریب ہوتا ہے اتنا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ یحب التوابین (الآیۃ) توبہ کرنے والے سے اللہ پیار کرتاہے اپنا محبوب بناتا ہے۔ جب بندہ سے خدا کی محبت ہوجاتی ہے، باقی دنیا کی اشیاء بھی ان سے پیار کرنا شروع کردیتی ہیں۔ رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد عالی ہے ”التائب حبیب اللہ“ توبہ کرنے والا اللہ کا دوست بن جاتا ہے۔ توبہ کے بغیر بندے کی کیا حالت ہوگی اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے وَأَتْبَعْنَاہُمْ فِی ہَذِہِ الدُّنْیَا لَعْنَۃً وَیَوْمَ الْقِیَامَۃِ ہُم مِّنَ الْمَقْبُوحِینَ (پارہ 20) دنیا میں لعنت ہوگی، آخرت میں وہ ذلیل لوگوں میں سے ہوگا۔ یُضَاعَفْ لَہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَیَخْلُدْ فِیہِ مُہَانًا إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُوْلَئِکَ یُبَدِّلُ اللَّہُ سَیِّئَاتِہِمْ حَسَنَاتٍ وَکَانَ اللَّہُ غَفُورًا رَّحِیمًا (پارہ 19)

ترجمہ۔ اس کے لیے عذاب قیامت کے دن دوگنا کردیا جائے گا، دنیا میں تو مشکلات اور مصیبتوں کا سامنا کرنا ہوگا، آخرت میں رسوائی کی حالت میں ہوگا۔ ہاں مگر جس نے توبہ کی تو اللہ تعالیٰ ان کے سئیات کو حسنات سے تبدیل کردے گا۔ انسان پر تنگدستی آجاتی ہے، قوت کمزور ہوجاتی ہے، ہر طرف اندھیرا اندھیرا نظر آتا ہے۔ یہ ساری ظلمتیں توبہ کی وجہ سے دور ہوسکتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے وَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُواْ رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُواْ إِلَیْہِ یُرْسِلِ السَّمَاء عَلَیْکُم مِّدْرَارًا وَیَزِدْکُمْ قُوَّۃً إِلَی قُوَّتِکُم(پارہ 12ہود)

اے قوم تم استغفار کرو اور اللہ کی طرف توبہ کرو تو تم پر بارش پڑے گی اور تمہاری قوۃ اور طاقت زیادہ ہوجائے گی۔ پانی کی کمی، قحط سالی، بیماری، کمزوری، لاغری یہ ساری تکلیفات گناہوں کی وجہ سے ہیں۔ جیسے ارشاد باری تعالیٰ ہے وَمَا أَصَابَکُم مِّن مُّصِیبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیکُمْ وَیَعْفُو عَن کَثِیرٍ (پارہ 25) ترجمہ۔ کوئی بھی مصیبت تم کو پہنچتی ہیں وہ تمہارے ہاتھ کی کمائی ہے۔ بہت سے تو اللہ تعالیٰ معاف کردیتا ہے، ان سے اعمال کی وجہ سے پکڑ نہیں ہوئی، اگر کوئی آفت مصیبت آتی ہے تو یہ اپنی کمی کوتاہی اور خطا گناہ کا مسبب ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے ان اللہ لایظلم مثقال ذرۃ۔ بیشک اللہ تعالیٰ کسی پر بھی ظلم نہیں کرتا۔ منجملہ توبہ سے اللہ تعالیٰ کی رحمت بندہ پر برسنا شروع ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے کَتَبَ رَبُّکُمْ عَلَی نَفْسِہِ الرَّحْمَۃَ أَنَّہُ مَن عَمِلَ مِنکُمْ سُوء ًا بِجَہَالَۃٍ ثُمَّ تَابَ مِن بَعْدِہِ وَأَصْلَحَ فَأَنَّہُ غَفُورٌ رَّحِیم (پارہ 7) ترجمہ۔ رب تعالیٰ نے اپنے ذمہ کرم پر رحمت لازم کرلی ہے کہ تم میں جو کوئی نادانی سے کوئی برائی کر بیٹھے پھر اس کے بعد توبہ کرے اور سنور جائے تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے والا مہربان ہے۔

جو شخص نادانی، بے سمجھی سے کسی قسم کے کتنے ہی گناہ کرے پھر مرنے سے پہلے پہلے کبھی بھی سچے دل سے توبہ کرے اپنا حال سنبھال لے تو اس مجرم کا حال یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ غفور رحیم ہے اس کے سارے گناہ بخش دے گا۔

فضائل توبہ

توبہ کے متعلق کافی کچھ بیان ہوگیا ہے۔ آخر میں کچھ آیات اور احادیث توبہ کی فضیلت کے متعلق بیان کا جائیں گی۔

1۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ فاما من تاب وآمن عمل صالحا فعسیٰ ان یکون من المفلحین۔

ترجمہ۔ جس شخص نے توبہ کی، ایمان لایا اور عمل صالح اختیار کیا پھر وہ مفلحین سے ہوگیا۔

دنیا میں کوئی انسان فلاح محل محلات حاصل کرنے سے سمجھتا ہے کوئی پیسہ حاصل کرنے سے کوئی شہرت سے کوئی لیڈرشپ سے کوئی بڑی ڈگری سے، لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کامیاب اور فلاح والا وہ شخص جس نے رب کے ہاں توبہ کی، رب تعالیٰ کے طرف رجوع اس کا ہوا۔

2۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا تُوبُوا إِلَی اللَّہِ تَوْبَۃً نَّصُوحًا عَسَی رَبُّکُمْ أَن یُکَفِّرَ عَنکُمْ سَیِّئَاتِکُمْ وَیُدْخِلَکُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِی مِن تَحْتِہَا الْأَنْہَارُ ۔(پارہ 28)

ترجمہ۔ اے ایمان والو تم توبہ کرو اللہ کی طرف پکی سچی توبہ اس سے فائدہ ملے گا کہ اللہ تعالیٰ ساری برائی مٹادے گا اور جنت کا داخلہ بھی نصیب فرمائے گا وہ جنت جس کے نیچے نہریں جاری ہیں کیا انعام ہے برائیاں بھی مٹ جاتی ہیں اور جنت بھی مل جاتر ہے۔

3۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد عالی ہے الَّذِینَ یَحْمِلُونَ الْعَرْشَ وَمَنْ حَوْلَہُ یُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَیُؤْمِنُونَ بِہِ وَیَسْتَغْفِرُونَ لِلَّذِینَ آمَنُوا رَبَّنَا وَسِعْتَ کُلَّ شَیْءٍ رَّحْمَۃً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِینَ تَابُوا (پارہ 24)

ترجمہ۔ وہ ملائکہ جو عرش اٹھاتے ہیں اور وہ ملائکہ جو عرش عظیم کے اردگرد ہیں سارے اپنے رب کی تعریف کرتے ہیں، پر رب پر پورا پورا انہیں کا ایمان وہ استغفار کرتے ہیں طلب مغفرۃ کرتے ہیں۔ ایمان والو کے لیے کہتے ہیں اے ہمارے رب تیرا علم تیری رحمت ہرچیز سے کشادہ ہے پھر تو بخش دے ان لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے، یہ ساری توبہ والے شخص کے لیے بخشش اور رحمۃ کی دعا کرتے ہیں کتنا توبہ والے کے لیے فائدہ ہوگیا۔

حدیث

حضرت حسن رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کی توبہ قبول کی تو ان کو فرشتوں نے تہنیت دی اور حضرت جبرئیل علیہ السلام اور میکائیل علیہم السلام ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا اللہ تعالیٰ نے پیغام دیا ہے کہ اے آدم تونے اپنی اولاد کے لیے رنج مشقت بھی ورثہ چھوڑی اور توبہ بھی۔ اے آدم توبہ کرنے والوں کی قبروں سے ہنستے ہوئے اور بشارت سنتے ہوئے اٹھاؤں گا جو دعا کریں گے ان کی قبول ہوگی۔

2۔ مسلم شریف میں ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اکرم صلّی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی سرزمین میں پہنچا، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو جس پر اس کا کھانا پینا وغیرہ لدا ہوا ہو، یہ شخص اپنا سر رکھ کر سو رہے اور پھر جو جاگے تو سواری نہ پائے اور اس کو ڈھونڈنے لگے، یہاں تک کہ جب اس پر دھوپ اور پیاس اور جو کچھ خدا کو منظور ہو اس کی شدت اور غلبہ ہو، کہے کہ میں جہاں تھا وہاں لوٹ چلوں اور سو رہوں تاکہ مرجاؤں اور وہاں پہنچ کر مرنے کے لیے اپنے ہاتھ کو سر تلے رکھ کر سو رہے اور پھر جو آنکھ کھلے تو دیکھے کہ جس سواری پر توشہ وغیرہ تھا وہ اس کے پاس کھڑی ہے۔ جتنی خوشی اس شخص کو اپنی سواری ملنے کی ہے اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ بندہ مؤمن کی توبہ سے خوش ہوتا ہے۔

3۔ حدیث شریف میں ہے لو علیہم الخطایا حتیٰ تبلغ السماء ثم ندمتم کتاب اللہ علیکم۔

ترجمہ۔ اگر تم جانو کہ میری خطائیں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ آسمان تک خلاء خطاؤں سے بھرگیا ہے، اس کے بعد بھی اگر ندامت آگئی اور پکی سچی توبہ کی تو اللہ تعالیٰ تم پر رجوع کرے گا یعنی اپنی رحمت سے نوازے گا۔

4۔ حدیث شریف ہے خیر الخطائین التوابون المستغفرون

بہترین خطا کار وہ ہیں جو خطاؤں کے بعد توبہ کرتے ہیں اور خدا سے بخشش کی طلب کرتے ہیں۔ کسی بزرگ نے فرمایا ہے کہ ایں درگاہ ناامیدی نیست۔ خدا کے بارگاہ میں ناامیدی نہیں ہوتی۔
خدا نے تو یہ اعلان کیا ہے کہقُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِینَ أَسْرَفُوا عَلَی أَنفُسِہِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَۃِ اللَّہِ إِنَّ اللَّہَ یَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِیعًا إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیمُ۔ (پارہ 24)

ترجمہ۔ اے محبوب آپ فرمادیجیے کہ اے میرے بندے جنہوں نے اپنی زندگی اسراف (تباہ) کردی وہ بھی مایوس نہ ہوں، اللہ کی طرف رجوع کریں، بیشک وہ کریم ذات تمام کردیگا وہ مہربان بخشنے والا ہے۔ سحری کے وقت ایک ملائک مقرر کیا گیا ہے یہ منادی دیتا ہے کہ ”ہل من تائب اتوب الیہ“، ہے کوئی توبہ کرنے والا کہ اس کی توبہ قبول، کوئی بزرگ اس کی ترجمانی یوں کرتا ہے شعر میں

ہم بہ مائل کرم ہیں کوئی مسائل ئی نہیں
راہ دکھلائیں کسے کوئی رہبر و منزل ہی نہیں

اللہ تعالیٰ کی رحمت تو وسیع ہے صرف بندہ کو آگے بڑھنا ہے پھر کرم ہی کرم ہے۔