فہرست الطاہر شمارہ نمبر 47
رمضان 1428ھ بمطابق اکتوبر 2007ع

مسلمان سائنسدان

قسط 2
الطاف حسین میمن طاہری

 

گذشتہ سے پیوستہ

جب ہمیں اتنے فوائد ملے تو پھر ذہن میں ایسی غلط فہمی کیوں پائی جاتی ہے اور اس مغالطے کے اسباب کیا ہیں؟ اگرچہ اس مغالطے کے اسباب بہت سے ہیں لیکن بنیادی طورپر دو اہم اسباب ایسے ہیں جن پر ہم سردست خاص طورپر توجہ دینا چاہیں گے۔ ان میں سے ایک کا تعلق یورپ سے ہے اور دسرےکا عالم اسلام سے۔

پہلا سبب سولہویں صدی کے کلیسائی مظالم

عالم اسلام میں یہ مغالطہ اس دور میں پیدا ہوا جب براعظم یورپ عیسائی پادریوں کے تسلط میں جہالت اور اٹا ٹوپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا تھا۔ جاہل پادری عیسوی مذہب اور بائبل کی اصل تعلیمات کو مسخ کرکے من گھڑت عیسائیت کو فروغ دینے میں کامیاب ہوچکے تھے۔ بائبل میں تحریف کی وجہ سے عقائد اوہام میں اور عبادات رسوم میں بدل چکی تھیں۔ اور معاشرہ کفر و شرک کی اندھی دلدل میں دھنستا ہی چلا جارہا تھا۔ عیسائی مذہب کی بنیادی تعلیمات جو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آج سے دو ہزار برس قبل دی تھیں، انہیں بدل کر توحید کی جگہ تثلیث کا عقیدہ گھڑلیا گیا جو ایک انتہائی نامعقول تصور تھا۔ اور اسے آج خود عیسائی اسکالر اور فلاسفر بھی رد کررہے ہیں۔ اس تحریف کے بعد سب سے بڑا فتنہ یہ پیدا ہوا کہ یونانی فلسفہ بائبل کا حصہ بن گیا، جسے دین عیسوی کے ماننے والے رفتہ رفتہ اپنا مستقل عقیدہ سمجھنے لگ گئے۔ حالانکہ وہ عقیدہ دراصل ان کا نہ تھا، بلکہ وہ محض یونانی فلسفے کے غلط تصورات تھے جو پادریوں کے ذریعے بائبل میں ڈال دیئے گئے تھے۔ اب اس تحریف کی وجہ سے بائبل میں یونانی فلسفے پر مبنی بے شمار سائنسی اغلاط در آئیں۔

سولہویں صدی میں جب سائنس نے ان غلط نظریات کو تحقیق کی روشنی میں جھٹلایا تو اس وقت کے پادری یہ سمجھے کہ سائنسدان مذہب کو سائنس کے ذریعے رد کررہے ہیں۔ چنانچہ وہ سائنسدانوں اور سائنسی علوم کے خلاف کفر کے فتوے دینے لگے۔ پہلے نظام شمسی اور حرکت زمین کے بارے میں نئے سائنسی تصورات کا یہ نتیجہ نکلا کہ پادریوں نے تکفیر کے فتوے دیئے۔ گلیلیو نے جب 1609ء میں دوربین ایجاد کی اور اس کی مدد سے نظام شمسی کے بابت اپنی تحقیقات دنیا کے سامنے پیش کیں تو پادریوں نے اسے اس جرم کی پاداش میں سزائے قید سنائی اور وہ دوران قید ہی مرگیا۔ علی ہٰذالقیاس متعدد سائنسدانوں کو مذہب کے نام پر متعصب ظالمانہ قوانین کے شکنجے میں کستے ہوئے انہیں اپنے سائنسی نظریات واپس لینے پر مجبور کیا گیا۔ یہاں تک کہ ان میں سے بعض کو زندہ جلا دیا گیا۔ ان تما م باتوں کے باوجود سائنس کا کارواں مسلسل آگے ہی آگے بڑھتا چلاگیا اور نوبت یہاںتک پہنچی کہ اس جاہلانہ معاشرے میں مذہب اور سائنس کے درمیان ایک گھمبیر جنگ چھڑگئی۔ قانون قدرت کے مطابق حق (سائنس) کو بالآخر فتح نصیب ہوئی۔

سائنس کے غلبے کا دور آیا تو ردِ عمل (REACTION) کے طور پر سائنسدانوں نے بچے کھچے عیسائی مذہب اور مسخ شدہ بائبل کے خلاف بدلے کے طور پر ایک مہم چلائی جس کے تحت ایک بڑی تعداد میں کتابیں اور مضامین شایع کیے گئے۔ باقائدہ علمی معرکے برپا ہوئے جن کے دوران عیسائی پادریوں کی کونسل کے اجلاس بھی ہوتے رہے، جن میں وہ عیسائیت کے دفاع کی کوشش کرتے۔ چند سال پیشتر پوپ آف روم نے بعض اہل کلیسا کی طرف دیے گئے آسمانی کائنات کے متعلق غیر سائنسی اور جاہلانہ فتاویٰ کو منسوخ کرنے کے اعلان کیا ہے۔

عیسائیت کی شکست کے بعد اگرچہ یہ جنگ اب ختم ہوچکی ہے، تاہم جدید ذہن اسلام سمیت دیگر تمام ادیان کو بھی عیسائیت ہی کے پردے میں دیکھ رہا ہے۔ اور انہیں بھی سائنسی تحقیقات پر پہرے بٹھانے والے اور باطل ادیان سمجھ رہا ہے۔ حالانکہ حقیقت بالکل اس کے برعکس ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے نوجوانوں نے سائنسی علوم کی ابتدا اور پیش رفت کے بارے میں جاننے کے لیے عام اسلام کی زریں تاریخ کا مطالعہ کرنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ انہوں نے اندلس (SPAIN)، بغداد (BAGHDAD)، دمشق (DAMASCUS) اور نیشاپور کی اسلام سائنسی ترقی کا مطالعہ ہی نہیں کیا۔ آج بھی ہالینڈ کی لیڈن یونیورسٹی کے ایشین سیکشن (Asian section) میں مسلم سائنسدانوں کی لکھی ہوئی صدیوں پرانی کتابیں موجود ہیں۔ جو ہمیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہیں کہ جب یورپ جہالت کے اتھاہ تاریکیوںمیں ڈوبا ہوا تھا اس وقت دنیائے اسلام میں سائنسی تحقیقات کی بدولت علم و حکمت اور فکر و دانش کا سورج اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ چمک رہا تھا۔ قرون وسطیٰ میں اسلام سائنس کے عروج کے دور میں سائنسی علوم پر بے شمار کتابیں لکھی گئیں جن کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ چنانچہ مذہب اور سائنس کی یہ چپقلش اسلام کی پیدا کردہ نہیں بلکہ یورپ کے دور جاہلیت (Darkages) کی پیداوار ہے۔ اور ہماری نوجوان نسل کی یہ بدقسمتی ہے کہ انہوں نے آج تک اسلام کی تاریخ کو براہ راست اپنے اسلامی ذرائع سے نہیں پڑھا اور فقط مغربی ذرائع علم پر ہی اکتفا کیا ہے۔ وہ اس نکتے کو نہ سمجھ سکے کہ مذہب پر کی جانے والی تنقیدیں اسلام کے خلاف نہیں، بلکہ عیسائیت کی مسخ شدہ مذہبی تعلیمات کے خلاف ہیں۔ مغربی سائنسدانوں کے سامنے تو اسلام کا سرے سے کوئی تصور ہی نہیں تھا۔ لہٰذا کسی بھی سائنسدان کی طرف سے مذہب کے خلاف کی جانے والی تنقیدات کا ہدف اسلام نہیں۔ ایسی تنقید نام نہاد عیسائی مذہب کے مبنی بر جہالت نظریات اور عقائد کے خلاف متصور ہونی چاہیے۔ اسلام کا اس سے کوئی سروکار نہیں۔

دوسرا سبب علمائے اسلام کی سائنسی علوم میں عدم دلچسپی

دوسری اہم وجہ ہمارے علماء کرام کے اذہان میں پایا جانے والا غلط تصور ہے کہ ہمارے ہاں مدارس اسلامیہ کے نصاب درس نظامی میں صدیوں سے جو فلسفہ پڑھایا جارہا ہے وہ اسلام سے ماخوذ ہے۔ یہ تصور ہی حقیقت کے خلاف ہے، کیونکہ وہ فلسفہ بنیادی طور پر اسلامی ہی نہیں بلکہ یونانی فلسفہ ہے۔ ہمارے بعض کم نظر علماء وہ کتابیں پڑھ کر یہ تفسیر بھول گئے ہیں کہ وہ فلسفہ یونانی ہے، قرآنی نہیں۔ اسی وجہ سے یہ سمجھا جاتا رہا ہے کہ بعض سائنسی تصورات ہمارے مذہب کے خلاف ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس سے یکسر مختلف ہے اور بدیہی طور پر اسلام اور سائنس میں کسی قسم کا کوئی تضاد اور ٹکراؤ نہیں، بلکہ یہ تضاد غلط سوچ ہے اور حقائق سے لاعلمی کی پیداوار ہے۔ نظریہ اضافیت (Theory of Relativity) کے خالق شہرہ آفاق سائنسدان آئن سٹائن کا کہنا ہے:

Science without religion is lame and religion without science is blind.

یعنی مذہب کے بغیر سائنس لنگڑی ہے اور سائنس کے بغیر مذہب اندھا ہے۔

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو مذہب اور سائنس دونوں کا نور عطا کرتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ اسلام دنیا کا سب سے زیادہ ترقی یافتہ دین ہے، جو نہ صرف قدم قدم پر سائنسی علوم کے ساتھ چلتا نظر آتا ہے۔ بلکہ حقیقت و جستجو کی راہوں میں سائنسی ذہن کی ہر مشکل رہنمائی بھی کرتا ہے۔

قرون وسطیٰ میں مسلمان سائنسدان

تاجدار کائنات صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تاریخ انسانیت میں علم وقت، فکر و فلسفہ، سائنس و ٹیکنالوجی اور ثقافت کی نئے اسالیب کا آغاز ہوا اور دنیا علمی اور ثقافتی حوالے سے ایک نئے دور میں داخل ہوئی۔ آپ صلّی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والے صحیفہ انقلاب نے انسانیت کو مذہبی حقائق سے سمجھنے کے لیے تعقل و تدبر اور تفکر و تعمق کی دعوت دی۔ ”افلا تعقلون“ (تم عقل سے کام کیوں نہیں لیتے)، ”افلا یتدبرون“ (وہ غور فکر کیوں نہیں کرتے ) اور ”الذین یتفکرون فی خلق السمٰوات والارض“ (جو لوگ آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور فکر کرتے ہیں) جیسے الفاظ کے ذریعے اللہ رب العزت نے اپنے کلام برحق میں بار بار عقل انسانی کو جھنجھوڑا اور انسانی و کائناتی حقائق اور آفاقی نظام کو سمجھنے کی طرف متوجہ کیا۔ اس طرح مذہب اور فلسفہ و سائنس کی غیریت بلکہ تضاد و تصادم کو ختم کرکے انسانی علم و فکر کو وحدت اور ترقی کی راہ پر گامزن کردیا گیا۔ تاجدار عالم آقائے دو جہان صلّی اللہ علیہ وسلم کے اس احسان کا بدلہ انسانیت رہتی دنیا تک نہیں چکا سکتی۔ حقیقت تو یہ ہے کہ آج تک دنیا میں جس قدر علمی و فکری اور ثقافتی و سائنسی ترقی ہوئی ہے یا ہوگی وہ سب دین اسلام کے انقلاب آفرین پیغام کا نتیجہ ہے، جس کے ذریعے علم و فکر اور تحقیق و جستجو کے نئے دور وارد ہوئے۔ معلم انسانیت صلّی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل دنیا میں علم، فلسفہ اور سائنس کی ترقی کا جو بھی معیار تھا اس کی بنیاد سقراط (Socrates)، افلاطون (Plato) اور ارسطو (Aristotle) کے دیے گئے نظریات پر تھی۔ آمد دین مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم سے قبل یونان (Greece) اور اسکندریہ (Alexandria) کی سرزمین علم کی سرپرستی کرتی رہی تھیں۔ ان مخصوص خطہ ہائے زمین کے علاوہ دنیا کا بیشتر حصہ جہالت کی تاریکی میں گم تھا۔ سرزمین عرب کا بھی یہی حال تھا جہاں لوگ اپنی جہالت اور جاہلیت پر فخر کرتے تھے۔ قدیم یونان اسکندریہ اور روما (اٹلی) میں علم اور تمدن کی ترقی کا کوئی فائدہ اہل عرب کو اس لیے نہ تھا کہ ان کے مابین زبانوں کا بہت فرق تھا۔ تاہم جاہلی عرب میں بعض علوم و فنون کا اپنا رواج اور ماحول تھا۔ مختلف علمی اور ادبی میدانوں میں عربوں کا اپنا مخصوص ذوق اور اس کے اظہار کا اپنا ایک مخصوص انداز ضرور تھا۔ ایسے حالات میں قرآن مجید کی پہلی آیات طیبات الاہیات، اخلاقیات، فلسفہ اور سائنس کا پیغام لیکر نازل ہوئیں۔

ارشاد ربانی ہوا

اقرا باسم ربک الذی خلق۔ خلق الانسان من علق۔ اقرا وربک الاکرم الذی علم باالقلم۔ علم الانسان مالم یعلم۔ (العلق 96)

ترجمہ: (اے حبیب صلّی اللہ علیہ وسلم) اپنے رب کے نام سے (آغاز کرتے ہوئے) پڑھیئے جس نے (ہرچیز کو) پیدا فرمایا۔ اس نے انسان کو (رحم مادر) میں لوتھڑے سے پید ا کیا۔ پڑھئے اور آپ کا رب بڑا ہی کریم ہے۔ جس نے قلم کے ذریعے (لکھنے پڑھنے کا) علم سکھایا۔ جس نے انسان کو وہ کچھ سکھادیا جو وہ نہیں جانتا تھا۔

تاجدار رحمت صلّی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہونے والی پہلی وحی کی پہلی آیت نے اسلامی الٰہیات و اخلاقیات کی علمی بنیاد فراہم کی، دوسری آیت نے حیاتیات اور جینیات کی سائنسی اساس بیان کی۔ تیسری آیت نے انسان کو اسلامی عقیدہ و فسلفہ حیات کی طرف متوجہ کیا۔ چوتھی آیت نے فلسفہ علم و تعلیم اور ذرائع علم پر روشنی ڈالی اور پانچویں آیت نے علم و معرفت، فکر و فن اور فلسفہ و سائنس کے تمام میدانوں میں تحقیق و جستجو کے دروازے کھول دیئے۔ حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے اپنی حیات طیبہ میں علم و فن اور تعلیم و تعلم کی ایسی سرپرستی کی، ایسی سرپرستی فرمائی، کہ اپنی جہالت پر فخر کرنے والی امی (ان پڑھ) قوم تھوڑے ہی عرصے میں پوری دنیا کے علوم و فنون کی امام و پیشوا بن گئی اور مشرق سے مغرب تک علم و اخلاق اور فسلفہ و سائنس کی روشنی پھیلانے لگی۔ وہ عرب قوم جسے علوم سائنس کی راہ پر ڈالنے کے لیے حضور صلّی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ بدر کے کافر قیدیوں کے لیے چار ہزار درہم زر فدیہ خطیر رقم چھوڑتے ہوئے دس دس مسلمانوں کو پڑھانے کا فدیہ مقرر کردیا تھا، اسلام کے اوائل صدیوں کے اندر ہی پوری دنیائے انسانیت کی معلم بن کر ابھری۔ اور اس نے سائنسی علوم کو ایسی مضبوط بنیادیں فراہم کیں جن کا لوہا آج بھی مانا جاتا ہے۔

اگلی قسط سے ہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں مسلمان سائنسدانوں کی خدمات اور ان کے سماجی علوم و فنون کے ارتقا میں ہونے والی پیش رفت کا تفصیلی طور پر تذکرہ کریں گے۔

(باقی آئندہ)