فہرست الطاہر
شمارہ 54، ربیع الاول 1430ھ بمطابق مارچ 2009ع

درس قرآن

علامہ ابوالعارف محمد کامل سہارن

(گذشتہ سے پیوستہ)

الَّذِینَ یُؤْمِنُونَ بِالْغَیْبِ۔

اہل تقویٰ کی اوصاف بیان کی جا رہی ہیں تاکہ ان کی معرفت، تعارف اور پہچان آسان ہوجائے۔ فرمایا جا رہا ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو غیب (بن دیکھے) پر ایمان رکھتے ہیں۔

ایمان کے لغوی معنی:

ایمان کے لغوی معنیٰ امن دینا، مظبوط کرنا، بھروسہ کرنا۔

اس اعتبار سے مومن کے معنی ہوئے خود کو امن و سلامتی میں رکھنا، عذاب الٰہی سے بچانا اور دنیا کو امن و سلامتی میں رکھنا اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچانا، خود کو اور پوری دنیا کو مظبوط بنانا، کمزوریوں کو دور کرنا مومن کا مشن ہوتا ہے۔ اور یہ کہ مومن کا ہمیشہ اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ہوتا ہے نہ کہ مال و اولاد پر اور نہ جاہ و حشمت پر اور نہ کسی اسلحہ و بارود پر۔

ایمان کے شرعی معنیٰ:

شریعت مطہرہ کے مطابق ایمان یہ ہے کہ جن امور کے متعلق یقین سے معلوم ہوجائے کہ یہ دین محمدی صلّی اللہ علیہ وسلم میں سے ہیں تو ان تمام امور پر دل سے یقین کرنا اور ماننا، زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء سے عمل بھی کرنا۔ لیکن اعضاء سے عمل کرنے کے بغیر بھی مومن کہا جائے گا مگر بہت گنہگار۔

مفہوم آیت:

آیت شریف کا مفہوم یہ ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان لاتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ، جنت و جہنم، ملائکہ اور دیگر وہ تمام چیزیں جو انہوں نے دیکھی نہیں مگر چوں کہ رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم نے ان کی خبر دی ہے اس لیے ان سب کو مانتے ہیں اور ہر حال میں مانتے ہیں دل میں یقین کے ساتھ، زبان سے اقرار کرکے اور مسلمانوں سے غائب، غیر مسلموں کے سامنے حاضر ہوتے وقت بھی مانتے ہیں۔

وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلَواۃَ۔

اہل تقویٰ کی دوسری صفت بیان کی گئی ہے کہ وہ نماز کو ہمیشہ قائم رکھتے ہیں۔

متقین کی پہلی صفت ایمان بیان کی گئی۔ ایمان مثل بنیاد ہے اور اس کے بعد اعمال ہیں اور اعمال مثل بقیہ عمارت کے ہیں اور اس عمارت کے ستون نماز، روزہ، حج اور زکواۃ ہیں۔ ان ستونوں میں بھی نماز کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ قرآن مجید اور احادیث شریف میں ایمان کے بعد نماز کی تاکید بیان فرمائی گئی ہے، روز محشر بھی سب سے پہلا سوال نماز کے متعلق ہوگا۔

یہاں ایک بات جو نہایت قابل غور ہے وہ یہ ہے کہ پورے قرآن مجید میں نماز پڑھنے یا ادا کرنے کی تلقین نہیں کی گئی بلکہ ہر جگہ نماز قائم کرنے کی ہدایات فرمائی گئی ہیں۔ اس میں راز یہ ہے نماز کو ہمیشہ اپنے مقررہ اوقات میں اس کے ظاہری و باطنی آداب کے ساتھ ادا کیا جائے۔

ظاہری آدابِ نماز میں شرائط، ارکان، فرائض، سنتیں اور مستحاب شامل ہیں جبکہ باطنی آدابِ نماز میں ذہن و قلب کی حاضری، عاجزی و انکساری، خلوص و للٰہیت اور ہمہ تن توجہ الی اللہ جیسے امور آجاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو نماز قائم کرنے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)

وَمِمَّارَزَقْنٰھُمْ یُنْفِقُوْنَ۔

اہل تقویٰ کی تیسری صفت کو بیان کیا جارہا ہے۔ فرمایا کہ وہ ہمارے دیئے گئے رزق میں سے ہماری راہ میں خرچ کرتے ہیں۔

شاندار ترتیب:

ابتدائی وصف میں تقویٰ، ایمان جو اصل اور بنیاد ہے، کو بیان کیا گیا ہے۔ اس کے بعد تمام اعمال میں افضل نماز کو بیان کیا گیا جس کا تعلق جسم سے ہے اور اب انفاق فی سبیل اللہ کا ذکر کیا گیا ہے جس کا تعلق مال سے ہے۔

ایمان میں نجات ہے، نماز میں مناجات ہے اور انفاق فی سبیل اللہ میں بلندی درجات ہے۔ ایمان میں بشارت ہے، نماز میں کفارہ ہے اور انفاق فی سبیل اللہ میں طہارت ہے۔ ایمان میں عزت ہے، نماز میں قربت ہے اور انفاق فی سبیل اللہ میں زیادہ ہے۔ اور اس آیت میں چار چیزوں کا ذکر ہوا۔ 1: تقویٰ 2: ایمان 3: نماز 4: انفاق۔ اور یہ چاروں اوصاف خلفائے راشدین کی ہیں۔ چنانچہ صدیق اکبر متقین کے سردار، عمر فاروق مومنین کے پیشوا، عثمان غنی نمازیوں کے شہنشاہ اور شیر خدا انفاق فی سبیل اللہ کرنے والوں کے امام ہیں رضی اللہ عنہم اجمعین۔ (روح البیان)

انفاق فی سبیل اللہ:

مما کے کلمہ سے ثابت ہوا کہ تمام کا تمام مال راہ خدا میں خرچ کرکے اپنے آپ کو محتاج اور اپنے زیر کفالت افراد خانہ کو حاجتمند بنا دینا جائز نہیں کہ اس سے حقوق نفس، حقوق زوجیت، حقوق اولاد وغیرہ کو مارنا ہے جو کہ سخت گناہ ہے۔ البتہ بعض عشاق، پروانے جنہوں نے اس طرح کیا یا کرتے ہیں تو وہ ایک خاص مقام عشق ہے۔ جس میں آدمی خود اور اس کے زیر کفالت افراد کا ہم ذہن وہم خیال ہونا بھی ضروری ہے اور ان کو آئندہ سوال اور ہاتھ پھیلانے کی ضرورت بھی پیش نہیں آئے تو اور بات ہے۔ جس طرح حضرت سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سارا مال مصطفیٰ صلّی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں نچھاور کرکے کہتے تھے کہ میرے لیے اللہ اور رسول صلّی اللہ علیہ وسلم ہی کافی ہیں۔

ہر چیز اللہ تعالیٰ کی عطا ہے:

رَزَقْنٰھُمْ کے کلمہ سے ثابت ہوا کہ ہمارے پاس جو چیز ہے وہ سب عطائے الٰہی ہے اور جو بندہ یہ عقیدہ راسخ کرلیتا ہے کہ یہ میری بساط نہیں بلکہ یہ قدرت کی نعمت ہے تو اس کو مال کے خرچ کرتے وقت آسانی میسر ہوتی ہے۔ وہ مال فی سبیل اللہ خرچ کرتے وقت یہی تصور رکھتا ہے کہ یہ سب اسی کریم ذات کا دیا ہوا ہے جو اس کے حکم اور اس کی رضا کے لیے اس کی راہ میں خرچ کیا جا رہا ہے۔ اس طرح وہ بندہ فی سبیل اللہ مال خرچ کرکے سکون قلب پاتا ہے اور رزق سے مراد جان، مال، اولاد وغیرہ ہر چیز شامل ہے۔ اولاد کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کھپانے سے مراد، اولاد کو دینی تعلیم دلوانا ہے، اپنی جان کو اللہ تعالیٰ کی راہ میں کھپانے سے مراد یہ ہے کہ کچھ وقت نکال کر اللہ تعالیٰ کی یاد، بندگی اور عبادت میں گذارا جائے۔

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَااُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَااُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ:

اہل تقویٰ کی چوتھی صفت یہ ہے کہ وہ قرآن مجید اور اس سے پہلے نازل ہونے والی تمام آسمانی الہامی کتابوں اورتمام صحیفوں پر ایمان رکھتے ہیں۔

یعنی پرہیزگار وہ ہے جو یہ ایمان رکھتا ہو کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں پر ہدایت و رشد کے لیے جو جو کتابیں، جو جو احکامات نازل فرمائے وہ سب کے سب برحق ہیں۔ یعنی وہ سب سچے اور ان قوموں پر ان کے احکامات پر عمل کرنا لازمی و ضروری تھا جن پر ان کو اتارا گیا۔ اس وقت قرآن مجید کا دور ہے اور تاقیامت اس کے احکامات پر عمل کرنا ضروری و لازمی ہے اور جو قرآن مجید پر عمل کرے گا وہ لازمی طور پر رسول اللہ صلّی اللہ علیہ وسلم کی احادیث پر بھی عمل کرے گا کہ یہی ہدایت قرآن ہے۔

وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوقِنُوْنَ:

اہل تقویٰ کی پانچویں صفت آخرت پر یقین رکھنا بیان فرمائی گئی ہے۔

آخرت پر یقین کے بغیر نہ تو ایمان کامل ہوسکتا ہے اور نہ ہی نیکی کی توفیق میسر ہوسکتی ہے۔ یہی وہ تصور ہے جس کی بناء پر انسان اللہ تعالیٰ سے ڈرکر بدی اور برائی سے دور رہ سکتا ہے۔ یہ وہ یقین ہے جس کی بناء پر ہی کسی کو تقویٰ کا اعلیٰ مقام حاصل ہوسکتا ہے۔ جب بندے کو معلوم ہو کہ اس سے اس کے اعمال کا حساب و کتاب لیا جائے گا، گناہوں پر سزا اور نیکیوں پر عطا ملے گی تو لامحالہ وہ نیک راہ اختیار کرے گا۔ جس سے ماحول اور معاشرہ امن و سکون کو گہوارہ بن جائے گا۔ اور یہی منشاء یزدانی ہے۔ حتی لاتکون فتنۃ کہ دنیا میں فتنہ باقی نہ رہے۔

اُوْلٰئِکَ عَلی ھُدًی مِّن رَّبِّھِمْ وَاُوْلٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُونَ:

اس آیت میں اہل تقویٰ کو بشارت عطا کی گئی ہے۔

متقین کو بشارت، ہدایت وفلاح:

جن لوگوں میں ایمان بالغیب، نماز پڑھنا، انفاق فی سبیل اللہ، تمام ہدایت و احکامات آسمانی پر ایمان اور آخرت پر یقین پایا جاتا ہو، ان ہی لوگوں کو پروردگار سے ہدایت نصیب ہوتی ہے اور وہ اپنی منزل مقصود تک اپنے رب کی رہنمائی سے بآسانی پہنچ جاتے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہیں۔ اور کامیابی کو دنیا یا آخرت میں سے کسی سے خاص نہیں کیا گیا۔ یہ اشارہ ہے اس طرف کہ وہ لوگ دنیا خواہ آخرت میں کامیاب و کامران ہیں۔